قسطوں کا کاروبار کرنے اور ویزہ خرید کر قسطوں پر بیچنے کا حکم

فتوی نمبر :
1218
معاملات / مالی معاوضات /

قسطوں کا کاروبار کرنے اور ویزہ خرید کر قسطوں پر بیچنے کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! امید ہے خیر و عافیت سے ہوں گے،
مفتی صاحب! میں قسطوں کا کاروبار کرتا ہوں وہ اس طرح کہ اگر کسی کو کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے تو میں دو لاکھ میں خرید لیتا ہوں، پھر اس کو ڈھائی لاکھ پر فروخت کر دیتا ہوں قسطوں پر کیا قسطوں کا کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور اس کے کیا کیا شرائط ہیں ؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص کو ویزے کی ضرورت ہے اور میں اس کے لیے ویزا خرید کر اس کو قسطوں پر دیتا ہوں یا ویزا اس کے نام پر آتا ہے اس کو رقم دے کر پھر زیادہ رقم قسطوں کی صورت میں لیتا ہوں یا خود ایجنٹ سے ویزا لے کر اس کے حوالے کرتا ہوں ان تمام صورتوں میں ویزا اس کے نام پر ہو تو کیا زیادہ رقم کے بدلے قسطوں پر دینا جائز ہے یا نہیں ؟
اور اگر اس کے نام پر ویزا نہ ہو پھر کیا حکم ہوگا ؟ اس کو تفصیل سے بیان فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1) قسطوں پر کسی چیز کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ معاملہ صاف، واضح اور شرعی اصولوں کے مطابق ہو۔
اس کے جواز کے لیے چند شرائط کی پابندی ضروری ہے:

اوّل: اس چیز کی مجموعی قیمت فریقین کی باہمی رضامندی سے طے کر لی جائے، چاہے یہ قیمت نقد قیمت کے مقابلے میں زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔
دوم: قسطوں کی مدت متعین ہو۔
سوم: ہر قسط کی رقم اور ادائیگی کی تاریخ پہلے سے مقرر ہو، تاکہ معاملے میں کوئی ابہام نہ رہے۔
چہارم: اگر خریدار کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کرے تو اس پر بطورِ جرمانہ اضافی رقم لینے کی شرط نہ رکھی جائے، کیونکہ یہ سود ہے، جو شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔
لہٰذا ان شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے قسطوں کا کاروبار کرنا جائز ہے، لیکن اگر ان میں سے کوئی شرط ساقط کر دی جائے، یا ان کی خلاف ورزی کی جائے تو معاملہ ناجائز ہو جائے گا۔
(2) البتہ ویزہ اسی کی ملکیت ہوتا ہے، جس کے نام جاری ہوا، ویزہ چونکہ پہلے سے اس کی ملکیت میں ہے تو اس صورت میں یہ ایسی چیز خرید رہا ہے جو اس کی ملک میں ہے، لہذا ویزہ قسطوں پر دینے کا کام کرنا جائز نہیں۔
اس کے جواز کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ آپ بطور ایجنٹ ویزہ لگوا کر دیں اور اپنے لیے مناسب کمیشن طے کر لیں، اس صورت میں آپ ویزہ ہولڈر کو ویزہ کے لیے بطور قرض دی گئی رقم اور اپنا کمیشن قسطوں میں وصول کر سکتے ہیں، تاہم قرض اور کمیشن سے اضافی رقم لینا جائز نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

*مجلة الأحكام العدلية:المادۃ:245،ص:50 مكتبة نور محمد*
(المادة 245) ‌البيع ‌مع ‌تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح
(المادة 246) يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط
(المادة 247) إذا عقد البيع على تأجيل الثمن إلى كذا يوما أو شهرا أو سنة أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز صح البيع
(المادة 248) تأجيل الثمن إلى مدة غير معينة كإمطار السماء يكون مفسدا للبيع.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
75
فتوی نمبر 1218کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --