نامحرم کو دیکھنے سے وضو کا حکم

فتوی نمبر :
1207
طہارت و نجاست / طہارت /

نامحرم کو دیکھنے سے وضو کا حکم

حضرت مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی عورت جس نے وضو کیا، پھر اپنے (دیور) کے سامنے آگئی تو اس کا وضو باقی ہے یا ٹوٹ گیا ؟
کیا اس کو نماز کے لیے دوبارہ وضوکرنا ہوگا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے نامحرم کو دیکھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر دیکھنے سے عضو مخصوص سے کوئی رطوبت نکل آئے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔

حوالہ جات

*الهندية: (1/ 13،ط:دارالفکر)*
مس ‌الرجل ‌المرأة والمرأة الرجل لا ينقض الوضوء. كذا في المحيط.

مس ذكره أو ذكر غيره ليس بحدث عندنا. كذا في الزاد.

والمباشرة الفاحشة بين المرأتين وبين الرجل والغلام الأمرد تنقض الوضوء عند الشيخين. هكذا في القنية وكذا بين الرجلين. كذا في معراج الدراية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
52
فتوی نمبر 1207کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --