ایک کمپنی اپنے ملازمین کو کام پر رکھتے ہوئے کام سے متعلق تمام تر ذمہ داریوں سے آگاہ کرتا ہے کہ اس طرح کا کام ہے اور یہ کام اس طرح کیا جاتا ہے اس کے علاوہ کوئی اضافی کام نہیں لیا جاتا ، اور نہ ہی مالکان اپنا ذاتی کام کسی ملازم سے کرواتے ہیں ، کچھ گھر کے ملازم ہیں جن سے گھر کے کام کروائے جاتے ہیں ، ایک بھی ملازم سے سے گھر کے یا ذاتی کام نہیں کروائے جاتے ۔
مذکورہ صورت کا شرعی حکم کیا ہے ؟
واضح رہے کہ ملازم کو ملازمت پر رکھتے وقت اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت میں اس کمپنی کا ملازمین کو ملازمت پر رکھتے وقت ذمہ داریوں سے آگاہ کرناایک اچھا عمل ہے۔
الدرالمختار : (6/ 5، ط: دارالفكر)
وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.
الهداية : (3/ 230، ط: دار احياء التراث العربي)
"ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة، والأجرة معلومة" لما روينا، ولأن الجهالة في المعقود عليه وبدله تفضي إلى المنازعة .
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (1/ 504، ط: دار الجيل )
(المادة 451) : يشترط في الإجارة أن تكون المنفعة مملوءة بوجه يكون مانعا للمنازعة.أي أنه يشترط في الإجارة أي في صحتها، أولا أن تكون المنفعة معلومة بوجه يكون مانعا للمنازعة.
الموسوعة الفقهية: (1/ 260، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
ويشترط فيها أيضا لصحة الإجارة: أن تكون معلومة علما ينفي الجهالة المفضية للنزاع. وهذا الشرط يجب تحققه في الأجرة أيضا؛ لأن الجهالة في كل منهما تفضي إلى النزاع. وهذا موضع اتفاق.