نجاسات اور پاکی

چوہے کا پانی میں منہ مارنا

فتوی نمبر :
117
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

چوہے کا پانی میں منہ مارنا

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ چوہا اگر دودھ یاپانی میں منہ مارے تواس دودھ اور پانی کااستعمال جائز ہے یا نہیں ؟ جب کہ چوہا بہت بڑا ہو تو کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

الجواب باسم ملہم الصواب
واضح رہے کہ چوہے کا جھوٹا استعمال کرنا مکروہ تنزیہی ہے ، چاہے چوہا چھوٹا ہو یا بڑا دونوں کا حکم ایک ہی ہے ۔

حوالہ جات

دلائل :
الشامية:(1/224،ط:دارالفكر)
«قوله وسواكن بيوت) أي ‌مما ‌له ‌دم ‌سائل ‌كالفأرة ‌والحية والوزغة، بخلاف ما لا دم له كالخنفس والصرصر والعقرب فإنه لا يكره»

(المحيط البرهاني:1/ 126، ط: دار الكتب العلمية )
وكذلك ‌سؤر ‌ما ‌يسكن البيوت من الحشرات كالفأرة والحية والوزغة مكروه .

(الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:1/ 282 ، ط: دار الفكر)
‌سؤر ‌طاهر ‌مكروه تنزيهاً استعماله مع وجود غيره: وهو سؤر الهرة، والدجاجة المخلاة ...وسواكن البيوت كالحية والفأرة.

والله اعلم بالصواب
سيف الله خالد
متخصص جامعہ دارالعلوم حنفیہ، كراچی

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
2025-07-12
136
فتوی نمبر 117کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --