کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے دوسرے کو چھ ہزار روپے دیئے اور کہا کہ جو نفع ہوگا اس میں سے دس فیصد آپ کا اور باقی میرا ،اس کے بعد اس دوسرے شخص نے اسی ترتیب پر یہ رقم کسی تیسرے آدمی کو دیا ، اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ یہ عقد مضاربت ہے اور مضارب کا مضاربت کی رقم کسی اور کو مضاربت پر دینا اس شرط پر جائز ہے کہ رب المال (جس کی رقم ہے )نے اس کی اجازت دی ہو ، اجازت نہ ہونے یا معلوم نہ ہونے کی صورت میں یہ عقد جائز نہیں ہوگا ۔
الهندية: (4/ 299، ط: دارالفكر)
إذا دفع المضارب المال بغير إذن رب المال لم يضمن بالدفع ما لم يتصرف الثاني وهذا ظاهر الرواية كذا في التبيين. ثم رب المال بالخيار إن شاء ضمن الأول رأس ماله وإن شاء ضمن الثاني .
الهداية : (3/ 202، ط: دار احياء التراث العربي )
قال: "ولا يضارب إلا أن يأذن له رب المال أو يقول له اعمل برأيك" لأن الشيء لا يتضمن مثله لتساويهما في القوة فلا بد من التنصيص عليه أو التفويض المطلق إليه .
مجمع الأنهر: (2/ 324، ط: دار إحياء التراث العربي )
(وليس له) أي للمضارب (أن يضارب) مال المضاربة لآخر (إلا بإذن رب المال) صريحا (أو بقوله له) أي للمضارب (اعمل برأيك) لأن الشيء لا يتضمن مثله فلا بد من التنصيص عليه أو التفويض المطلق إليه .