کرنسی کے تبادلے کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
1145
معاملات / مالی معاوضات /

کرنسی کے تبادلے کا شرعی حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کے کرنسی کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ بیچنے کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں مختلف ممالک کی کرنسی چونکہ الگ الگ جنس ہے، اس لیے ایک دوسرے کے ساتھ کمی بیشی کے باجود تبادلہ جائز ہے، بشرطیکہ دونوں کرنسی نقد ہوں ۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (5/ 259، ط: دارالفكر)
(‌فلو ‌باع) ‌النقدين (أحدهما بالآخر جزافا أو بفضل وتقابضا فيه) أي المجلس (صح، و) العوضان (لا يتعينان) حتى لو استقرضا فأديا قبل افتراقهما أو أمسكا ما أشار إليه في العقد وأديا مثلهما جاز.

البحر الرائق: (6/ 211، ط: دارالكتاب الاسلامي )
قوله (فلو باع الذهب بالفضة مجازفة صح ‌إن ‌تقابضا ‌في ‌المجلس) لأن المستحق هو القبض قبل الافتراق دون التسوية لما روينا .

البناية شرح الهداية: (8/ 399، ط: دار الكتب العلمية)
واعلم أن ‌بيع ‌الذهب ‌بالفضة أو الفضة بالذهب يجوز مجازفة سواء كان متساويين في الوزن أو أقل أو كان أحدهما أكثر من الآخر؛ لأن المساواة ليست بمشروطة عند اختلاف الجنسين لما روي من حديث عبادة بن الصامت رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم، إذا كان يدا بيد» فلما لم تكن المساواة مشروطة لم تكن المجازفة حراما .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
40
فتوی نمبر 1145کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --