آمدنی و مصارف

سود پر قرض لے کر کاروبار کرنا

فتوی نمبر :
1118
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

سود پر قرض لے کر کاروبار کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے پاس بزنس کرنے کے لیے رقم دستیاب نہیں ہے ، میں بینک سے بزنس لون (کاروباری قرض) لے کر بزنس کرسکتا ہوں اور ان پیسوں سے اگر میں بزنس کروں تو منافع حلال ہوں گے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بینک سے قرض لینا سود ی معاملہ ہونے کی وجہ سے حرام ہے ، لہذا اس سے احتراز کرنا چاہیے ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم :[البقرة:/2 275]
ﵟوَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ

صحيح مسلم: (5/ 50، رقم الحديث : 106 - (1598)، ط:دار طوق النجاة )
عن جابر قال: ‌لعن ‌رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء .

الهندية: (3/ 117، ط: دارالفكر)
وهو محرم ‌في ‌كل ‌مكيل وموزون بيع مع جنسه وعلته القدر والجنس ونعني بالقدر الكيل فيما يكال والوزن فيما يوزن فإذا بيع المكيل كالبر والشعير والتمر والملح أو الموزون كالذهب والفضة وما يباع بالأواقي بجنسه مثلا بمثل صح وإن تفاضل أحدهما لا يصح وجيده ورديئه سواء حتى لا يصح بيع الجيد بالرديء مما فيه الربا إلا مثلا بمثل

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
62
فتوی نمبر 1118کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --