کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں ذکری فرقہ کے لوگ رہتے ہیں جو ختم نبوت پرایمان نہیں رکھتے ہم ان کوکافر کہہ کر پکار تے ہیں جو انہیں ناگوار گزرتا ہے ۔
پوچھنا یہ ہے کہ ہمارا ان کے ساتھ یہ فعل شرعا درست ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ ختم نبوت کا منکر بے شک کافر ہی ہے ، لیکن آپ کا ان کو کافر کہنا اگر ان کو ناگوار گزرتا ہے ، توا س وقت ان کو کافر کہنا درست نہیں ہے ۔
الهندية: (5/ 348، ط: دارالفكر)
لو قال ليهودي أو مجوسي يا كافر يأثم إن شق عليه كذا في القنية.
الدرالمختار : (4/ 76، ط: دارالفكر)
وفي القنية: قال ليهودي أو مجوسي يا كافر يأثم إن شق عليه، ومقتضاه أنه يعزر لارتكابه الإثم .
نجم الفتاویٰ :(141/1 ، ط: یاسین القرآن کراچی )
اگر کافر کو کافر کہنا ناگوار گزرے تواس کو کافر کہہ کر پکار نا جائز نہیں ۔