تین طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
1096
عقائد / /

تین طلاق کا حکم

میں اپنی فیملی کے ساتھ عمان میں رہتا ہوں میرے سالے نے اپنی بیوی کے ساتھ بحث کرلی اور اس غصہ کے دوران اس نے مجھے فون کیا کہ وہ اپنی بہن یعنی میری بیوی سے بات کرنا چاہتے ہیں میری بیوی کے بات کرنے کے بعد اس نے مجھ سے بات کی اس دوران اس نے کانفرنس کال کے ذریعے ایک اور بندے کوبھی ساتھ شامل کرلیا ، اور پھر میرے سالے نے کہا کہ میں تمہیں اس دوسرے آدمی کو جو فون پر ہمارے ساتھ موجود تھا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے رہاہوں ، پھر اس نے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا طلاق واقع ہوگئی ہے ؟ کسی نے اس بارے میں اس کے بیوی سے کچھ نہیں کہا ، بعد وہ اپنی بیوی کے پاس گیااوراسی کے ساتھ رہ رہا ہے ۔
براہ کرم! صحیح جواب دیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں جب اس نے کہا کہ میں آپ کو اور اس دوسرے آدمی کو گواہ بنا کر کہہ رہاہوں کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے رہاہوں ، تواس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ، اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوچکی ہے ، اب بغیر حلالہ شرعی کے اس شخص کااس عورت کو بیوی کے حیثیت سے اپنے پاس رکھنا جائز نہیں ہے ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم :[البقرة:/2 230]
ﵟفَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ .

الدرالمختار مع الرد المحتار:(3/ 248، ط: دارالفكر)
(ويقع بها) أي ‌بهذه ‌الألفاظ وما بمعناها من الصريح، (قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: ‌كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر.

الهندية: (1/ 384، ط: دارالفكر)
في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون ‌طلاقا ‌إلا ‌إذا ‌غلب استعماله للحال فيكون طلاقا .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
42
فتوی نمبر 1096کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 149