کمپنی کے وکیل کا گاڑی کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنا اور اس پر کمیشن لینا

فتوی نمبر :
1065
/ /

کمپنی کے وکیل کا گاڑی کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنا اور اس پر کمیشن لینا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کی کمپنی پشاور میں واقع ہے اور اس کمپنی کا مال کراچی، لاہور اور دیگر شہروں میں جاتا ہے، کمپنی سے گاڑی مال لے کر نکلتی ہے اور مختلف مطلوبہ جگہوں پر پہنچاتی ہے، ایک آدمی گاڑی کا کرایہ اور راستے میں آنے والے خرچے گاڑی کے مالک کو دیتا ہے اور مہینے کے آخر میں کمپنی کے مالک کے ساتھ حساب کتاب کر کے، اس سے پورے مہینے کی گاڑیوں کا کرایہ اور ہر گاڑی پر 5 ہزار روپے کمیشن بھی لیتا ہے، اس آدمی کا کہنا ہے کہ میں پانچ ہزار روپے اس لیے لیتا ہوں کہ یہ مجھے مالک اپنی رضامندی سے دیتا ہے اور پورا مہینہ میرے پیسے بھی بند ہوتے ہیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس آدمی کے لیے اس طرح کا کمیشن لینا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کوئی شخص کمپنی کی طرف سے ایجنٹ یا وکیل بن کر اس کے معاملات انجام دیتا ہے اور راستے کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتا ہے، لیکن کمپنی نے اسے ایسا کرنے کا پابند نہیں کیا، پھر کمپنی کا مالک اسے فی گاڑی پانچ ہزار روپے بطور اجرت یا کمیشن دیتا ہے تو یہ لینا بالکل جائز اور حلال ہے، کیونکہ یہ خدمت اور محنت کی اُجرت ہے۔
البتہ اگر وہ شخص کمپنی کا ایجنٹ تو ہے، لیکن کمپنی نے اسے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنے کا پابند کیا ہے، یا ایجنٹ تو نہیں، بلکہ صرف اپنی جیب سے کمپنی کو قرض دیتا ہے اور اس پر فی گاڑی پانچ ہزار زائد وصول کرتا ہے تو یہ قرض پر مشروط نفع ہونے کی وجہ سے سود ہے اور شرعاً ناجائز و حرام ہے۔

حوالہ جات

سنن ابي داوود:(222/5،رقم الحديث 3333،ط:دار الرسالة العالمية)
حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سماك، حدثني عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعودعن أبيه، قال: لعن رسول الله ﷺ آكل الربا وموكله وشاهده وكاتبه.

*العناية شرح الهداية:(233/12،ط:دار الكتب العلمية)*
وأخرج البيهقي أيضا من حديث إدريس بن يحيى عن عبد الله بن عياش حدثنا يزيد بن حبيب، عن أبي مرزوق النخعي عن فضالة بن عبيد أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا.

*الشامية:(63/6،ط: دارالفكر)*
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
59
فتوی نمبر 1065کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 149