مفتی صاحب! یہ بتائیں کہ کیا کسی صحابی سے خودکشی کرنا ثابت ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ تاریخِ صحابہ اور احادیثِ مبارکہ میں دو ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں بظاہر خودکشی کا ذکر آتا ہے، ان میں سے ایک واقعہ حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہجرت کرنے والے ایک صحابی کا ہے۔ حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میری قوم کا ایک شخص میرے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آیا، وہاں وہ بیمار ہوگیا اور بیماری کی شدت سے اس نے اپنے ہاتھ کو کاٹ لیا جس کے نتیجے میں وہ فوت ہوگیا۔ اس واقعے کی تشریح میں محدثین نے مختلف احتمالات ذکر فرمائے ہیں۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا ہے کہ اس شخص نے علاج کی غرض سے ایسا کیا تھا، لیکن اس عمل کے نتیجے میں اس کی وفات ہوگئی۔ تاہم یہ شخص صحابی تھا اور بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعائے مغفرت بھی فرمائی۔ حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے منقول ہے کہ انہوں نے خواب میں اس شخص کو اچھی حالت میں دیکھا، البتہ اس کا ہاتھ ڈھکا ہوا تھا، حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا، اس نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے میری ہجرت کی وجہ سے مجھے معاف فرما دیا، البتہ میرے ہاتھ کے بارے میں فرمایا گیا کہ جس چیز کو تم نے خود خراب کیا تھا ہم اسے درست نہیں کریں گے۔ دوسرا واقعہ ایک ایسے شخص کا ہے جو ایک غزوہ میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوا اور نہایت بہادری سے لڑتا رہا تو صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی بہادری اور شجاعت کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا کہ وہ جہنمی ہے اور پھر صحابہ کرام نے دیکھا کہ اس نے خودکشی کرلی۔ محدثین نے اس واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ وہ شخص حقیقت میں مؤمن نہیں تھا بلکہ منافق تھا اور محض شہرت حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کے ساتھ لڑ رہا تھا؛ اسی وجہ سے اس کے بارے میں یہ حکم بیان ہوا۔ لہٰذا اسے صحابی قرار دینا درست نہیں۔ تاہم یہ بات واضح رہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معصوم نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ تھے۔ یعنی اگر کبھی ان سے کوئی گناہ سرزد بھی ہوا تو اللہ رب العزت نے انہیں توبہ کی توفیق عطا فرمائی اور ان کے گناہ کو معاف فرما دیا۔ چنانچہ مذکورہ حدیث میں جب حضرت طفیل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھی کو خواب میں دیکھا تو اس نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہجرت کی برکت سے معاف فرما دیا، البتہ میرے ہاتھ کو درست نہیں فرمایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کے ہاتھ کے لیے دعائے مغفرت فرمائی، لہٰذا اس صحابی رضی اللہ عنہ نے خودکشی کو حلال سمجھ کر یہ اقدام نہیں کیا تھا، نہ ہی خودکشی کی وجہ سے معاذ اللہ کفر کے مرتکب ہوئے، بلکہ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، بیماری کی شدت اور علاج کی غرض سے انہوں نے ایسا کیا تھا۔ اس لیے اس واقعے کو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تنقیص یا ان کے ایمان پر طعن کے لیے دلیل بنانا درست نہیں۔
صحيح مسلم: (184 - (116)،ط:دار طوق النجاۃ) عن جابر « أن الطفيل بن عمرو الدوسي أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، هل لك في حصن حصين ومنعة؟ قال: حصن كان لدوس: في الجاهلية، فأبى ذلك النبي صلى الله عليه وسلم للذي ذخر الله للأنصار، فلما هاجر النبي صلى الله عليه وسلم إلى المدينة هاجر إليه الطفيل بن عمرو، وهاجر معه رجل من قومه، فاجتووا المدينة فمرض فجزع، فأخذ مشاقص له فقطع بها براجمه، فشخبت يداه حتى مات، فرآه الطفيل بن عمرو في منامه، فرآه وهيئته حسنة ورآه مغطيا يديه، فقال له: ما صنع بك ربك؟ فقال: غفر لي بهجرتي إلى نبيه صلى الله عليه وسلم، فقال: ما لي أراك مغطيا يديك؟ قال: قيل لي: لن نصلح منك ما أفسدت. فقصها الطفيل على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم وليديه فاغفر . صحيح البخاري: (رقم الحدیث:4207،ط:دار طوق النجاۃ) عن سهل قال: «التقى النبي صلى الله عليه وسلم والمشركون في بعض مغازيه، فاقتتلوا، فمال كل قوم إلى عسكرهم، وفي المسلمين رجل لا يدع من المشركين شاذة ولا فاذة إلا اتبعها فضربها بسيفه، فقيل: يا رسول الله، ما أجزأ أحدهم ما أجزأ فلان، فقال: إنه من أهل النار. فقالوا: أينا من أهل الجنة إن كان هذا من أهل النار؟ فقال رجل من القوم: لأتبعنه، فإذا أسرع وأبطأ كنت معه، حتى جرح، فاستعجل الموت، فوضع نصاب سيفه بالأرض وذبابه بين ثدييه، ثم تحامل عليه فقتل نفسه، فجاء الرجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أشهد أنك رسول الله، فقال: وما ذاك. فأخبره، فقال: إن الرجل ليعمل بعمل أهل الجنة، فيما يبدو للناس، وإنه من أهل النار. ويعمل بعمل أهل النار، فيما يبدو للناس، وهو من أهل الجنة. المعتصر من المختصر من مشكل الآثار: (2/ 249،ط:عالم الكتب) في من قتل نفسه روي مرفوعا "من قتل نفسه بحديدة فحديدته في يده في نار جهنم يجأبها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا ومن قتل نفسه بسم فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها". وروي أن رجلا هاجر إلى المدينة مع الطفيل بن عمرو فمرض فأخذ مشاقص له فقطع بها براجمه فشخبت يداه حتى مات فرآه الطفيل في منامه في هيئة حسنة ورآه يغطي يديه فقال له: ما صنع بك ربك؟ قال: غفر لي بهجرتي إلى نبيه فقال له: أراك تغطي يديك فقال: قيل لي:«لن تصلح منك ما أفسدت فقصها الطفيل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال صلى الله عليه وسلم: "اللهم وليديه فاغفر" لا تضاد فيه لأنه يحتمل أن يكون الرجل فعل بنفسه ما فعل على أنه عنده علاج تبقى له بقية يديه وتسلم نفسه فلم يكن بذلك مذموما كمن خاف أن تذهب نفسه إن لم يقطعهما فمات فلا إثم عليه وإن لم يقطعهما حتى مات فلا إثم عليه أيضا ودعاء النبي صلى الله عليه وسلم ليديه بالغفران إشفاق منه وأعمال الخوف كدعاء عمران بن الحصين اللهم اغفر لي ما أسررت وما أعلنت وما أخطأت وما عمدت وما جهلت وما علمت والخطأ ليس بمؤاخذ به والتخليد المذكور ليس على ظاهره بل خالدا حتى يخرج بالشفاعة مع سائر المؤمنين المذنبين لأن القتل لا يحبط إيمانه ولا يبطل أعماله فلابد من مجازاته لقوله تعالى: {وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ} وجماعة من السلف بإنفاذ الوعيد على قاتل نفسه عمدا ومنهم من رآه على المشيئة.