السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! خیریت سے ہیں؟ اللہ آپ کو خوش رکھے ۔ ایک مسئلہ معلوم کرنا ہےکہ ماجد کا انتقال ہو گیا، ماجد کے بیٹے سعودی میں ہیں، وہ 15 سے 20 گھنٹے میں آ جائیں گے، اب پوچھنا یہ ہے کہ ماجد کے انتقال کے فوراً بعد اس کو کفن اور غسل دے کر انتظار کیا جائے؟ یا جب ان کے بیٹے آجائیں یعنی 15سے 20 گھنٹے بعد تب ان کو غسل اور کفن دیا جائے؟
جب کسی شخص کی موت کا یقین ہو جائے تو اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین میں جلدی کرنا سنت ہے۔ شرعی عذر یا قانونی مجبوری کے بغیر تدفین میں تاخیر کرنا مناسب نہیں، کیونکہ اس سے میت کی بے حرمتی کا اندیشہ ہوتا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں ماجد کے بیٹوں کو چاہیے کہ وہ یہاں پر موجود رشتہ داروں سے تدفین کا کہہ دیں، بلا وجہ تاخیر نہ کریں ۔
سنن أبي داود:(5/ 71 ،رقم الحدیث:3159،ط: دار الرسالة العالمية) حدثنا عبد الرحيم بن مطرف الرؤاسي أبو سفيان وأحمد بن جناب، قالا: حدثنا عيسى -قال أبو داود: وهو ابن يونس-، عن سعيد بن عثمان البلوي، عن عزرة وقال عبد الرحيم: عروة- بن سعيد الأنصاري، عن أبيه عن الحصين بن وحوح أن طلحة بن البراء مرض، فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده، فقال: "إني لا أرى طلحة إلا قد حدث فيه الموت، فآذنوني به وعجلوا؟ فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله". الشامیة:(2/ 193،ط:دارالفکر) (قوله ويسرع في جهازه) لما رواه أبو داود «عنه صلى الله عليه وسلم لما عاد طلحة بن البراء وانصرف قال ما أرى طلحة إلا قد حدث فيه الموت فإذا مات فآذنوني حتى أصلي عليه وعجلوا به فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله» والصارف عن وجوب التعجيل الاحتياط للروح الشريفة فإنه يحتمل الإغماء. وقد قال الأطباء: إن كثيرين ممن يموتون بالسكتة ظاهرا يدفنون أحياء لأنه يعسر إدراك الموت الحقيقي بها إلا على أفاضل الأطباء فيتعين التأخير فيها إلى ظهور اليقين بنحو التغير إمداد؛ وفي الجوهرة وإن مات فجأة ترك حتى يتيقن بموته. مطلب في القراءة عند الميت.