کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ خثنیٰ مشکل جب مر جائے ،تو بلوغت کے بعد غسل مرد دے گا یا عورت ؟اور اگر بلوغت سے پہلے مر جائے تو جنازے میں لڑکے کی دعا پڑھی جائے گی یا لڑکی کی؟
خنثیٰ مشکل اگر بلوغت کی حالت میں مر جائے تو اسے غسل نہیں دیا جائے گا ،بلکہ تیمم کرایا جائے گا۔
الدرالمختار : (2/ 201، ط: دارالفكر) وييمم الخنثى المشكل لو مراهقا. الهندية: (1/ 160، ط: دارالفكر) والخنثى المشكل المراهق لا يغسل رجلا ولا امرأة ولم يغسلها رجل ولا امرأة وييمم وراء ثوب، كذا في الزاهدي. فتاوی فریدیہ :(3/177، ط: دارالعلوم صدیقیہ صوابی ) خنثی مشکل جب مر جائے ،تو اس کو باقاعدہ تیمم دیا جائے گا، یا حوض دریا میں غوطہ دیا جائے گا ۔ فتاوی رحیمیہ :(7/57، ط: دارالاشاعت کراچی ) ایک شخص 50 سال کا انتقال ہوا ہے وہ نہ مرد ہے اور نہ عورت خنثیٰ مشکل ہے، اس کو غسل اور کفن کس طرح دیا جائے؟ الجواب : ایسے خنثیٰ مشکل میت کے غسل اور کفن کا حکم یہ ہے کہ اس کو غسل نہ دیا جائے بلکہ تیمم کرا دیا جائے ۔ 2 اگر خنثیٰ مشکل بلوغت سے پہلے مر جائے، تو جنازے میں لڑکے یا لڑکی میں سے جس کی بھی دعا پڑھی جائے درست ہے ۔ فتاوی دارالعلوم دیوبند :(5/251، دارالاشاعت کراچی ) ایک عورت کے جنگل میں بچے پیدا ہوا اور ماں کے بے ہوشی میں جانور بچے کا دھڑکھا گیا تو نماز میں لڑکی کی دعا پڑھیں گے یا لڑکی کی؟ الجواب :لڑکےکی دعا پڑھنے چاہیے اور اگر لڑکی کی دعا بھی پڑھ لیں تو بھی جائز ہے اللہ کیونکہ مذکر کی ضمیر میت کی طرف راجح ہو سکتی ہے اور اگر بضمیر مونث پڑھا تو بھی درست ہے بتاویل نفس کے۔