احرام کے کپڑوں کو کفن میں استعمال کرنے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ حج و عمرہ میں استعمال شدہ احرام کی چادروں میں میت کو کفن دینے میں کوئی قباحت نہیں، البتہ اگر یہ چادریں میلی ہو چکی ہوں تو انہیں دھو کر صاف ستھرا کر لینا چاہیے۔
نیز یہ یاد رہےکہ احرام کی چادر کفن کی مسنون تعداد(مردوں کے حق میں تین اور عورتوں کے حق میں پانچ کپڑوں)سے کم یا زیادہ نہ ہو۔
*سنن أبي داود:(5/ 142،رقم الحديث:3238،ط: دار الرسالة العالمية)*
حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، حدثني عمرو بن دينار، عن سعيد بن جبير عن ابن عباس، قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم برجل وقصته راحلته، فمات وهو محرم، فقال: "كفنوه في ثوبيه، واغسلوه بماء وسدر، ولا تخمروا رأسه، فإن الله يبعثه يوم القيامة يلبي".
*مرقاة المفاتيح:(3/ 1186،ط:دارالفكر)*
وقد قال صلى الله عليه وسلم في ذلك المحرم: «كفنوه في ثوبيه» ". وهما ثوبا إحرامه: إزاره ورداؤه، ومعلوم أن إزاره من الحقو، وكذا حديث أم عطية.