السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مسلمان کی مرنے سے لے کر دفن تک کا سنت اور مستحب طریقہ کی رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ خیرا
جب کوئی شخص قریب المرگ ہو جائے تو گھر والوں کو چاہیے کہ اسے داہنی کروٹ قبلہ رخ لٹا دیں جب کہ اسے تکلیف نہ ہو، ورنہ اس کے حال پر چھوڑدیں اور چت لٹانا بھی جائز ہے اس طور پرکہ پاوٴں قبلہ کی طرف اور سر کسی قدر اونچا کردیا جائے اور پاس بیٹھنے والے ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کسی قدر بلند آواز سے پڑھتے رہیں، لیکن میت کو اصرار کے ساتھ پڑھنے کے لیے نہ کہیں، جب روح پرواز کر جائے تو کپڑے وغیرہ کی ایک چوڑی پٹی لے کر اس کا منہ باندھ دیں؛ تاکہ منہ نہ پھیل سکے نیز آنکھیں بند کردیں اور تمام اعضا درست کردیں اور کسی چیز سے پیر کے دونوں انگوٹھے ملا کر باندھ دیں تاکہ ٹانگیں پھیلنے نہ پائیں، اس کے بعد کوئی چادر وغیرہ اوڑھا کر نہلانے اور کفنانے کا انتظام کریں، جب کفن کا سب سامان تیار ہوجائے تو نہلادیا جائے۔
نہلانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے مردے کو استنجا کرادیا جائے، لیکن استنجا کراتے وقت اس کی رانوں اور مقام استنجا پر ہاتھ نہ لگایا جائے بلکہ ہاتھ میں کپڑا وغیرہ لپیٹ کر میت کے اوپر جو کپڑا پڑا ہو اس کے اندر اندر دھلادیا جائے، پھر وضو کرایا جائے اس طور کہ پہلے منہ پھر ہاتھ کہنی سمیت دھلایا جائے پھر اس کے سر کا مسح کرایا جائے، اس کے بعد دونوں پیر دھلادیے جائیں، جب وضو مکمل ہوجائے تو میت کا سر اس کے بعد پورا بدن دھویا جائے، صفائی کے لیے صابن یا اس جیسی کوئی دوسری چیز بھی استعمال کی جائے تو بہتر ہے۔
نیز غسل کے پانی کو اگر بیر کے پتے ڈال کر پکالیا جائے اور نیم گرم پانی سے نہلایا جائے تو یہ بھی بہتر ہے، جب غسل مکمل ہوجائے تو سارا بدن کسی کپڑے سے پوچھ کر کفن پہنادیا جائے، اس کے بعد نماز جنازہ پڑھ کر قبرستان لے جاکر دفنادیا جائے۔
دفن کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ میت کو قبر کے کنارے قبلہ کی طرف رکھا جائے ،قبر میں اِس طرح اتارا جائے کہ میّت کو اتارنے والے قبر میں قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوں اور میت کو احتیاط سے قبر میں رکھیں، قبر میں رکھنے کے بعد اسے داہنے پہلو پر اس طرح لٹایا جائے کہ چہرہ اور جسم قبلہ رخ ہو اور پیچھے تھوڑی مٹی ڈال دی جائے تاکہ جسم اپنی جگہ قائم رہے۔ پھر کفن کی وہ گرہیں کھول دی جائیں جو سر، درمیان اور پاؤں کی طرف باندھی گئی تھیں۔
عورت کو قبر میں رکھتے وقت پردہ کرنا مستحب ہے، مرد کے لیے ضروری نہیں مگر یہ کہ کوئی عذر ہو ، مثلاً :بارش ، برف باری یا سخت دھوپ ہو تو پھر جائز ہے ۔
اس کے بعد قبر کو کچی اینٹوں، لکڑی یا بانس وغیرہ سے بند کر دیا جائے۔ بلا ضرورت پکی اینٹیں یا تختے استعمال کرنا مکروہ ہے، تاہم اگر زمین نرم ہو اور قبر بیٹھنے کا اندیشہ ہو تو جائز ہے، پھر مٹی ڈال کر قبر کو تقریباً ایک بالشت یا اس سے کچھ زیادہ اونچا، اونٹ کے کوہان کی طرح بنایا جائے۔
آخر میں قبر پر پانی چھڑکا جائے اور سرہانے سورۃ البقرہ کی ابتدائی آیات ’’المفلحون‘‘ تک، اور پائنتی کی طرف سورۃ البقرہ کی آخری آیات ’’آمن الرسول‘‘ سے آخر سورت تک پڑھنا مستحب ہے۔
*مختصر القدوري:(47/1،ط:دار الكتب العلمية)*
إذا احتضر الرجل وجه إلى القبلة على شقة الأيمن ولقن الشهادتين فإذا مات شدوا لحييته وغمضوا عينيه وإذا أرادوا غسله وضعوه على سرير وجعلوا على عورته خرقة،ونزعوا ثيابه ووضئوة ولا يمضمض ولا يستنشق ثم يفيضون الماء عليه ويجمر سريره وترا ويغلى الماء بالسدر أو بالحرض فإن لم يكن فالماء القراح ويغتسل رأسه ولحيته بالخطمي،ثم يضجع على شقه الأيسر فيغتسل بالماء والسدر حتى يرى أن الماء قد وصل إلى ما يلي التخت منه ثم يضجع على شقة الأيمن فيغتسل بالماء والسدر حتى يرى أن الماء قد وصل إلى ما يلي التخت منه،ثم يجلسه ويسنده إليه ويمسح بطنه مسحا وفيقا فإن خرج منه شيء غسله ولا يعيد غسله ،ثم ينشفه بثوب ويجعله في أكفانه ويجعل الحنوط على رأسه ولحيته والكافور على مساجده.والسنة أن يكفن الرجل في ثلاثة أثواب:إزار وقميص ولفافة فإن اقتصروا على ثوبين جاز وإذا أرادوا لف اللفافة عليه ابتداءوا بالجانب الأيسر فألقوه عليه ثم بالأيمن فإن خافوا أن ينشر الكفن عنه عقدوه وتكفن المرأة في خمسة أثواب: إزار وقميص وخمار وخرقة يربط بها ثدياها ولفافة فإن اقتصروا على ثلاثة أثواب جاز ويكون الخمار فوق القميص تحت اللفافة ويجعل شعرها على صدرها ولا يسرح شعر الميت ولا ليحته ولا يقص ظفره ولا يعقص شعره وتجمر الأكفان قبل أن يدرج فيها وترافإذا فرغوا منه صلوا عليه فإذا حملوه على سريره أخذوا بقوائمه الأربع ويمشون به مسرعين دون الخبب فإذا بلغوا إلى قبره كره للناس أن يجلسوا قبل أن يوضع عن أعناق الرجال ويحفر القبر ويلحد ويدخل الميت مما يلي القبلة فإذا وضع في لحده قال الذي يضعه: باسم الله وعلى ملة رسول الله ويوجهه إلى القبلة ويحل العقدة ويسوي اللبن عليه.
*العناية شرح الهداية:(103/2،ط:دار الفكر)*
(إذا احتضر الرجل) أي قرب من الموت، وقد يقال احتضر إذا مات لأن الوفاة حضرته أو ملائكة الموت. وقوله (على شقه) أي جنبه (الأيمن اعتبارا بحال الوضع في القبر) فإنه يوضع فيه كذلك بالاتفاق (لأنه أشرف عليه) أي على الوضع في القبر، والشيء إذا قرب من الشيء يأخذ حكمه.وقوله (ولقن الشهادة) تلقينها أن يقال عنده وهو يسمع، ولا يقال له قل لأن الحال صعب عليه فربما يمتنع عن ذلك والعياذ بالله. وقوله (والمراد الذي قرب من الموت) دفع لوهم من يتوهم أن المراد به قراءة التلقين على القبر كما ذهب إليه بعض فيكون من باب قوله ﴿إنك ميت﴾ و«من قتل قتيلا فله سلبه» وقوله (ثم فيه تحسينه) لأنه إذا ترك مفتوح العين يصير كريه المنظر ويقبح في أعين الناس.
*الدرالمختار:(2/ 235،ط:دارالفکر)*
(و) يستحب أن (يدخل من قبل القبلة) بأن يوضع من جهتها ثم يحمل فيلحد (و) أن (يقول واضعه: بسم الله، وبالله، وعلى ملة رسول الله صلى الله عليه وسلم ويوجه إليها) وجوبا، وينبغي كونه على شقه الأيمن ولا ينبش ليوجه إليها (وتحل العقدة) للاستغناء عنها (ويسوى اللبن والقصب لا الآجر) المطبوخ والخشب لو حوله، أما فوقه فلا يكره ابن مالك... (ويسجى) أي يغطى (قبرها) ولو خنثى (لا قبره) إلا لعذر كمطر (ويهال التراب عليه، وتكره الزيادة عليه) من التراب لأنه بمنزلة البناء ويستحب حثيه من قبل رأسه ثلاثا، وجلوس ساعة بعد دفنه لدعاء وقراءة بقدر ما ينحر الجزور ويفرق لحمه.(ولا بأس برش الماء عليه) حفظا لترابه عن الاندراس (ولا يربع) للنهي (ويسنم) ندبا. وفي الظهيرية وجوبا قدر شبر (ولا يجصص) للنهي عنه (ولا يطين، ولا يرفع عليه بناء.