کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مہر کے متعلق سنت کیا ہے ؟کم مہر رکھنا چاہیے یا زیادہ ؟
مہر مقرر کرتے وقت شوہر کی مالی حیثیت اور استطاعت کو سامنے رکھنا چاہیے، اگر شوہر صاحبِ استطاعت اور مالی وسعت رکھنے والا ہو تو افضل یہ ہے کہ مہرِ فاطمی مقرر کیا جائے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، دیگر صاحب زادیوں اور اکثر ازواجِ مطہرات کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ مہرِ فاطمی کی مقدار 500 درہم چاندی ہے، جو تولہ کے حساب سے تقریباً 131.25 تولہ چاندی بنتی ہے۔ البتہ اگر شوہر صاحبِ استطاعت نہ ہو اور مالی وسعت نہ رکھتا ہو تو اس پر حیثیت سے بڑھ کر مہر مقرر کرنا مناسب نہیں، ایسی صورت میں کم از کم مہر دس درہم یا شوہر کی مالی استطاعت کے مطابق اس سے زیادہ مقرر کیا جاسکتا ہے، کم از کم مہر موجودہ حساب کے مطابق تقریباً دو تولہ ساڑھے سات ماشہ، یعنی 30.618 گرام چاندی کے برابر ہے۔ چونکہ چاندی کی قیمت میں وقتاً فوقتاً کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، اس لیے مہر کی ادائیگی اس وقت کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق چاندی کی قیمت معلوم کرلینی چاہیے۔
صحيح مسلم:(144/4،رقم الحديث:27-(1426)،ط:دار طوق النجاة) حدثنا إسحاق بن إبراهيم ، أخبرنا عبد العزيز بن محمد ، حدثني يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد . (ح)، وحدثني محمد بن أبي عمر المكي - واللفظ له -. حدثنا عبد العزيز ، عن يزيد ، عن محمد بن إبراهيم ، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أنه قال: «سألت عائشة زوج النبي ﷺ كم كان صداق رسول الله ﷺ؟ قالت: كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشا. قالت: أتدري ما النش؟ قال: قلت: لا. قالت: نصف أوقية، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صداق رسول الله ﷺ لأزواجه ». المصنف لابن أبي شيبة:(493/3،ط:دار التاج) محمد بن فضيل، عن يحيى بن سعيد، قال: حدثني محمد بن إبراهيم، قال: «كان صداق بنات النبي ﷺ وصداق نسائه خمس مائة درهم» العناية شرح الهداية:(317/3،ط: دارالفكر) (وأقل المهر عشرة دراهم) وقال الشافعي: ما يجوز أن يكون ثمنا في البيع؛ لأنه حقها فيكون التقدير إليها ولنا قوله ﷺ «ولا مهر أقل من عشرة». الهندية:(302/1،ط: دارالفكر) أقل المهر عشرة دراهم مضروبة أو غير مضروبة حتى يجوز وزن عشرة تبرا، وإن كانت قيمته أقل، كذا في التبيين وغير الدراهم يقوم مقامها باعتبار القيمة وقت العقد في ظاهر الرواية.