دو معاملات سے متعلق رہنماٸ درکار ہے۔ 1. زکوة کا حساب کرنا ہے اسٹیشنری کی دکان ہے کچھ فوٹو کاپی کا پیپر رکھا ہے 2500۔ اس کا حساب کس طرح کریں گے کیونکہ فوٹو کاپی پانچ روپے کی ہے اور خالی صفحہ جو ابھی استعمال نہیں ہوا اس کی قیمت کس حساب سے لگانا ہوگا۔ 2. كيا ساری کتابیں ہیں گھر میں والدہ کو ملی تھیں کافی پرانی ہیں جس میں بہت ساری کتابوں کے بارے میں معلوم نہیں کہ مصنف کون ہے گمراہ بھی ہوسکتا ہے اسی طرح کچھ کتابیں مودودی صاحب کی ہیں اسی طرح ایک نسخہ متفقہ قرآن کا بھی ہے جس پر کچھ مہینے پہلے معاملات چل رہے تھے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ ان کتابوں کا کیا کرنا چاہیے علماء کے لیے تو یہ ممکن ہے کہ وہ استفادہ حاصل کرلیں لیکن گھر پر رہنا ان کتابوں کا یہ خطرہ لگ رہا ہے اب ان کتابوں کا کیا کرنا چاہیے؟ مہربانی فرماکر جواب عنایت فرمادیں جزاك اللهُ
واضح رہے کہ سوال میں ذکر کردہ پہلے مسئلے کا جواب یہ ہے کہ کاپیوں میں موجود خالی کاغذات کی زکوٰۃ ادا کرتے وقت ان کی موجودہ بازاری قیمت کا اعتبار کیا جائے گا، یعنی اس وقت بازار میں جتنی قیمت میں اتنے ہی خالی کاغذات دستیاب ہوں، اسی قیمت کے مطابق ان کی مالیت متعین کی جائے گی، پھر اگر دیگر زکوٰۃ کے قابل سامان کو ملا کر مجموعی مالیت نصابِ زکوٰۃ تک پہنچ جائے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔ دوسرے مسئلے کا جواب یہ ہے کہ ایسی کتابیں جن کے پڑھنے کی ضرورت نہ ہو، یا وہ ایسے باطل عقائد اور نظریات پر مشتمل ہوں جن کی وجہ سے انسان کے گمراہ ہونے کا اندیشہ ہو ان کتابوں کو محفوظ رکھنے کے بجائے کسی پاک جگہ دفن کر دیا جائے یا پانی وغیرہ میں بہا دیا جائے۔ البتہ اگر ایسے اہلِ علم موجود ہوں جو ان کتابوں کے مضامین کو سمجھتے ہوں اور ان سے ان کے گمراہ ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی کتابیں ان کے حوالے کر دی جائیں۔
الدر المختار:(2/ 286،ط:دارالفکر) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه. الشامية:(422/6،ط:دارالفکر) الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله، ويحرق الباقي، ولا بأس بأن تلقى في ماء جار، كما هي، أو تدفن وهو أحسن، كما في الأنبياء. : قوله: (كما في الأنبياء): كذا في غالب النسخ، وفي بعضها، كما في الأشباه. لكن عبارة المجتبى: والدفن أحسن، كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها. اهـ. يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم؛ لأن أفضل الناس يدفنون. الهندية:(377/5،ط:دارالفکر) قال جماعۃ من العلماء رحمھم اللہ تعالی: قال الشيخ الإمام صدر الإسلام أبو اليسر: نظرت في الكتب التي صنفها المتقدمون في علم التوحيد، فوجدت بعضها للفلاسفة، مثل إسحاق الكندي والاستقراري وأمثالهما، وذلك كله خارج عن الدين المستقيم زائغ عن الطريق القويم، فلا يجوز النظر في تلك الكتب، ولا يجوز إمساكها، فإنها مشحونة من الشرك والضلال. قال: ووجدت أيضا تصانيف كثيرة في هذا الفن للمعتزلة، مثل عبد الجبار الرازي والجبائي والكعبي والنظام وغيرهم، فلا يجوز إمساك تلك الكتب والنظر فيها كي لا تحدث الشكوك ولا يتمكن الوهن في العقائد....... ومن العلوم المذمومة علوم الفلاسفة، فإنه لا يجوز قراءتها لمن لم يكن متبحرا في العلم وسائر الحجج عليهم وحل شبهاتهم والخروج عن إشكالاتهم.