مفتی صاحب! ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا وہ وہ یہ کہ ایک چیز پر کمپنی ریٹیل قیمت لکھ کر دیتی ہے اب سوال یہ ہے کہ اس مخصوص قیمت سے زیادہ پر مال کو فروخت کرنا کیسا ہے ؟یا اس مخصوص لکھی ہوئی رقم یا قیمت کو کسی طرح ہٹا کر اس سے زیادہ پر فروخت کرنا کیسا ہے؟ اور کبھی اس مخصوص رقم سے کم پر بھی مال فروخت ہوتا ہے جبکہ کمپنی نے صرف اپنے مال پر جو رقم درج کی ہوتی ہے اور اسی خاص رقم پر فروخت کرنے پرکوئی معاہدہ بھی نہیں ہوا ہے ۔ برائے کرم شریعت کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔
اگر کمپنی یا ملکی قانون کی طرف سے بیچنے والوں پر چیز کو مخصوص قیمت پر فروخت کرنے کی پابندی نہیں لگائی گئی ہے،تو ایسی صورت میں خرید و فروخت کے معاملے میں خریدنے والا اور بیچنے والا جس قیمت پر معاملہ کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔
سنن ابن ماجه: (3/ 319،رقم الحديث : 2200، ط: دارالرسالة العالمية ) عن أنس بن مالك، قال: غلا السعر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا: يا رسول الله! قد غلا السعر، فسعر لنا. فقال: "إن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق، إني لأرجو أن ألقى ربي وليس أحد يطلبني بمظلمة في دم ولا مال. الهندية: (3/ 161، ط: دارالفكر) ومن اشترى شيئا وأغلى في ثمنه فباعه مرابحة على ذلك جاز وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - إذا زاد زيادة لا يتغابن الناس فيها فإني لا أحب أن يبيعه مرابحة حتى يبين. الدرالمختار : (6/ 399، ط: دارالفكر) (ولا يسعر حاكم) لقوله عليه الصلاة والسلام «لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق» (إلا إذا تعدى الأرباب عن القيمة تعديا فاحشا فيسعر بمشورة أهل الرأي) آپ کے مسائل اور ان کے حل :(ج 7ص 40، ط: لدھیانوی کراچی )میں ہے شریعت نے منافع کا تعین نہیں فرمایا کہ اتنا جائز ہے اور اتنا جائز نہیں تاہم شریعت نے صریح ظلم کی اجازت نہیں دیتی جسے عرف عام میں جیب کاٹنا کہا جاتا ہے جو شخص ایسے منافق خوری کا عادی ہو اس کی کمائی سے برکت اٹھ جاتی ہے حکومت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ منصفانہ منافع کا ایک معیار مقرر کر کے زائد منافع خوری پر پابندی عائد کر دے۔