کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس علم غیب تھا؟ اور کیا انبیاء علیہم السلام کو علم غیب عطا کیا گیا تھا ؟
واضح رہے کہ علمِ غیب اللہ تبارک و تعالیٰ کی خاص صفت ہے، اور اس صفت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ تاہم یہ ایک الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں سے بڑھ کر علم عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی وسعت کا اندازہ تمام کائنات مل کر بھی نہیں لگاسکتی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو ایسا وسیع علم عطا فرمایا کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے علاوہ تمام مخلوقات مل کر بھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء علیہم السلام پر فضیلت عطا فرمائی۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو، اور ان کے واسطے سے ان کی امتوں کو، جنت، جہنم، قبر کے احوال اور دیگر بہت سی ایسی باتوں کی خبر دی ہے جو پردۂ غیب میں ہیں۔ ان امور کو "اخبارِ غیب" یا "اطلاع علی بعض المغیبات" کہا جاتا ہے۔ انہیں "علمِ غیب" نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے بتانے سے حاصل ہوتے ہیں، اور بعض اوقات اس میں حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی واسطہ بنتے ہیں۔ لہٰذا ان معلومات کو مستقل علمِ غیب کہنا درست نہیں۔
القرأن الكريم : [الأنعام:/6 50] قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ إِنِّي مَلَكٌۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّۚ . [النمل:/27 65] قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ.