مفتی صاحب! میرا ایک پلاٹ ہے اور میرے ارادہ ہے اس پر مارکیٹ بنا دوں، اب میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں اس پر تعمیر کر سکوں، ایک دوست نے کہا کہ اس کی تعمیرات کے تمام اخراجات میں اٹھاتا ہوں، اس کے بعد اس مارکیٹ سے حاصل ہونے والے منافع میں دونوں شریک ہوں گے تو کیا اس طرح کی شرکت کرنا درست ہے ؟
واضح رہے کہ کاروبار میں شراکت کے لیے جانبین کی طرف سے نقد سرمایہ کا ہونا ضروری ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا اپنے دوست کے پلاٹ پر تعمیر کا خرچہ کر کے مارکیٹ بنانے کے باوجود بھی آپ اپنے دوست کے پلاٹ یا تعمیر میں شریک نہیں بن سکتے، بلکہ پلاٹ اور تعمیر دونوں آپ کے دوست کی ملکیت شمار ہوں گے، اگر آپ نے تعمیر بنا کر دی ہے تو اس صورت میں آپ کو اس تعمیر سے منافع حاصل کرنے کا حق نہیں ہوگا، البتہ آپ کو تعمیر پر ہونے والے خرچے اور تعمیر کے کام کی اجرت مثل(یعنی اس جیسے کام کی مارکیٹ میں جتنی اجرت دینے کا رواج ہوا) اپنے دوست سے وصول کرنے کا حق ہوگا۔ اور ایسے معاملے کے جواز کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آپ اپنے دوست کو پلاٹ کی آدھی رقم دے کر اس سے خرید لیں، تاکہ آپ اور آپ کا دوست اس پلاٹ میں آدھے آدھے شریک ہو جائیں ، اس کے بعد آپ اور آپ کا دوست دونوں رقم ملا کر اس مشترکہ پلاٹ پر مشترکہ رقم سے تعمیر کریں اور پھر نفع میں دونوں برابر کے شریک ہوں گے اور نقصان میں بھی دونوں شریک ہوں گے۔
الهندية: (2/ 302،ط:دارالفکر) أما الشركة بالمال فهي أن يشترك اثنان في رأس مال فيقولا اشتركنا فيه على أن نشتري ونبيع معا أو شتى أو أطلقا على أن ما رزق الله عز وجل من ربح فهو بيننا على شرط كذا أو يقول أحدهما ذلك ويقول الآخر نعم، كذا في البدائع. بدائع الصنائع: (6/ 59،ط:دار الکتب العلمية) أن يكون الربح معلوم القدر...أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا...(أما) الشركة بالأموال فلها شروط: (منها) أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة وهي التي لا تتعين بالتعيين في المفاوضات على كل حال، وهي الدراهم والدنانير،عنانا كانت الشركة أو مفاوضة عند عامة العلماء،... ولو كان من أحدهما دراهم ومن الآخر عروض فالحيلة في جوازه أن يبيع كل واحد منها نصف ماله بنصف دراهم صاحبه ويتقابضا ويخلطا جميعًا حتى تصير الدراهم بينهما والعروض بينهما ثم يعقدان عليهما عقد الشركة فيجوز."