کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ لیٹ فیس چارجز لینا کیسا ہے؟اگر کوئی ادارہ ہر ماہ 15 کے بعد لیٹ چارجز وصول کرتا ہے تو یہ جائز ہے یا ناجائز؟
فیس میں تاخیر کی وجہ سے جرمانہ لینا شرعاً درست نہیں، کیونکہ یہ ناجائز اضافی رقم شمار ہوتی ہے، البتہ بعض اداروں کی طرف سےمختلف اوقات میں فیس کی مختلف مقدار مقرر کرنا تاخیر پر جرمانہ نہیں، بلکہ ہر وقت کے حساب سے الگ الگ فیس طے کرنا ہے۔ مثال کے طور پر: اگر کوئی آج جمع کراتا ہے تو فیس پانچ سو روپے ہے اور اگر دس دن بعد داخلہ کرائے تو فیس ایک ہزار روپے ہے، یہ تاخیر پر جرمانہ نہیں، بلکہ ہر وقت کے اعتبار سے الگ معاملہ ہے، اس لیے مذکورہ صورت جائز اور درست ہے۔
*القرآن الکریم:(النساء:29:4)* يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا. *سنن الترمذي:27/3،رقم الحديث: (1352،ط:دار الغرب الإسلامي)* حدثنا الحسن بن علي الخلال، قال: حدثنا أبو عامر العقدي، قال: حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن أبيه ،عن جده أن رسول الله ﷺ قال: «الصلح جائز بين المسلمين، إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما،» والمسلمون على شروطهم، إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما. *معالم السنن:(166/4،ط:المطبعة العلمية حلب)* وقوله المسلمون على شروطهم فهذا في الشروط الجائزة في حق الدين دون الشروط الفاسدة وهذا من باب ما أمرالله تعالى من الوفاء بالعقود.