مفتی صاحب ! جوتے خریدنے کے بعد پسند نہ آنے کی صورت میں واپس کر سکتے ہیں یا نہیں، بعض دفعہ دکاندار واپس نہیں کرتا؟
خریدار اور تاجر کے درمیان جو خرید وفرخت کا معاملہ ہوا تھا اس معاملے کو ان دونوں کی باہمی رضامندی کے ساتھ پہلی قیمت پر ختم کرنا اقالہ کہلاتا ہے، اس کے لیے دونوں کی رضامندی لازم ہے کسی ایک کی طرف سے دوسرے کی رضامندی کے بغیر اقالہ درست نہیں ، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر دکاندار راضی ہو یا شروع ہی میں پسند نہ آنے کی صورت میں واپسی کی شرط لگائی گئی ہو تو آپ کا جوتے واپس کرنا درست ہے، ورنہ نہیں۔
الموسوعة الفقهية :(5/ 324، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية) الإقالة في اللغة: الرفع والإزالة، ومن ذلك قولهم: أقال الله عثرته إذا رفعه من سقوطه، ومنه الإقالة في البيع، لأنها رفع العقد وهي في اصطلاح الفقهاء: رفع العقد، وإلغاء حكمه وآثاره بتراضي الطرفين البحر الرائق شرح كنز الدقائق : (6/ 110، ط : دار الكتاب الإسلامي ) أما الأول فقال في القاموس قلته البيع بالكسر، وأقلته فسخته، واستقاله طلب إليه أن يقيله، وتقايل البيعان، وأقال الله عثرتك ... وأما معناها شرعا فهي رفع العقد كذا ذكره في الجوهرة. مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:(2/ 71،ط: دار إحياء التراث العربي) (تصح) الإقالة (بلفظين أحدهما مستقبل) هذا بيان ركنهما وهو الإيجاب والقبول الدالان عليها وشرط أن يكونا بلفظين ماضيين أو أحدهما بمستقبل والآخر بماض كأقلني فقد أقلتك عند الشيخين كالنكاح (خلافا لمحمد) فإن عنده يشترط أن يعبر بهما عن المضي كالبيع.