مفتی صاحب ! چکی والے کو گندم دے کر اس کے بدلے آٹا لینا کیسا ہے؟
گندم دے کر اس کے بدلے آٹا لینا، یا آٹا دے کر گندم لینا شرعاً درست نہیں، کیونکہ گندم اور آٹے کے اس تبادلے میں شرعی اعتبار سے برابری کی تعیین ممکن نہیں، جس کی وجہ سے سود کا شبہ پیدا ہوتا ہے، لہٰذا چکی والے کو گندم دے کر اس کے عوض آٹا لینا جائز نہیں۔ درست صورت یہ ہے کہ گندم پہلے چکی والے کو فروخت کرکے اس کی قیمت وصول کی جائے، پھر اسی رقم سے آٹا خرید لیا جائے، یا اپنی گندم چکی والے سے پسوا کر اس گندم کا آٹا واپس لیا جائے اور اس کی طے شدہ اجرت نقد ادا کی جائے۔
صحيح مسلم:(44/5،رقم الحديث:81-(1587)،ط:دار طوق النجاة) حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، وعمرو الناقد، وإسحاق بن إبراهيم ، (واللفظ لابن أبي شيبة)، قال إسحاق: أخبرنا، وقال الآخران: حدثنا وكيع ، حدثنا سفيان ، عن خالد الحذاء ، عن أبي قلابة ، عن أبي الأشعث ، عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله ﷺ: «الذهب بالذهب، والفضة بالفضة، والبر بالبر، والشعير بالشعير، والتمر بالتمر، والملح بالملح، مثلا بمثل، سواء بسواء، يدا بيد، فإذا اختلفت هذه الأصناف، فبيعوا كيف شئتم، إذا كان يدا بيد . بدائع الصنائع:(188/5،ط:دار الكتب العلمية) وكذلك بيع الحنطة بدقيق الحنطة؛ لأن في الحنطة دقيقا إلا أنه مجتمع؛ لوجود المانع من التفرق، وهو التركيب، وذلك أكثر من الدقيق المتفرق عرف ذلك بالتجربة إلا أن الحنطة إذا طحنت ازداد دقيقها على المتفرق.