مفتی صاحب ! ایک صاحب نے کہا کہ عورتوں کی نماز بغیر مہندی کے نہیں ہوتی؟
مہندی لگانا عورتوں کے لیے مستحب اور باعثِ ثواب عمل ہے ، احادیث مبارکہ میں اس کی ترغیب بھی ملتی ہے، لیکن یہ نماز کی صحت کے لیے شرط نہیں، لہٰذا اگر کسی عورت نے مہندی نہ لگائی ہو تو اس کی نماز درست ہے، یہ کہنا کہ "مہندی کے بغیر عورت کی نماز نہیں ہوتی" درست بات نہیں۔
*سنن أبي داود:(242/6،رقم الحديث:4166،ط:دار الرسالة العالمية)* حدثنا محمد بن محمد الصوري، حدثنا خالد بن عبد الرحمن، حدثنا مطيع بن ميمون، عن صفية بنت عصمة عن عائشة قالت: أومت امرأة من وراء ستر بيدها كتاب إلى رسول الله - ﷺ -، فقبض النبي -ﷺ- يده، فقال: «ما أدري أيد رجل أم يد امرأة» قالت: بل امرأة، قال: «لو كنت امرأة لغيرت أظفارك» يعني بالحناء. *بذل المجهود:(191/12،ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية)* فإن خضاب اليدين والرجلين بالحناء مستحب للنساء، وحرام للرجال إلَّا لحاجة التداوي ونحوه.