السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! اگر کسی نے بچپن میں چوری کی ہو اور اس وقت وہ نابالغ تھا تو ان پیسوں کا کیا حکم ہے؟
اگر کسی بچے نے بلوغت سے پہلے کسی کا مال چوری کیا ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ نابالغ شرعی احکام کا مکلف نہیں ہوتا، تاہم جس شخص کا مال لیا گیا ہو، اس کا حق ختم نہیں ہوتا، لہٰذا اگر مالک معلوم ہو تو اس کا مال یا اس کی قیمت اسے دینا لازم ہے اور اگر وہ وفات پاچکا ہو تو اس کے ورثاء کو اس کی ادائیگی ضروری ہے، اگر مالک کا کوئی علم نہ ہو تو اتنی رقم بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں، مسکینوں یا ایسے دینی مدارس میں دے دی جائے جہاں طلبہ کے کھانے اور رہائش کا انتظام ہو۔
*سنن الترمذي:(93/3،رقم الحديث:1423،ط:دار الغرب الإسلامي)* حدثنا محمد بن يحيى القطعي البصري، قال: حدثنا بشر بن عمر، قال: حدثنا همام ، عن قتادة ، عن الحسن البصري ، عن علي أن رسول الله ﷺ قال: «رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتى يستيقظ،» وعن الصبي حتى يشب، وعن المعتوه حتى يعقل. *الشامية:(385/6،ط: دارالفكر)* ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ