السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرے دو شرعی سوالات ہیں، براہِ کرم قرآن و سنت اور معتبر فقہی دلائل کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں: اگر کوئی شخص داڑھی منڈواتا ہو یا شرعی مقدار کے مطابق داڑھی نہ رکھتا ہو تو کیا وہ اذان دے سکتا ہے، اقامت کہہ سکتا ہے اور نماز کی امامت کرا سکتا ہے؟ اگر کرا سکتا ہے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے اور ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ کیا مرد کے لیے بغیر سر ڈھانپے نماز ادا کرنا جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو یہ مکروہ ہے یا خلافِ سنت؟ نیز اس بارے میں شریعت کی صحیح رہنمائی کیا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔
1) واضح رہے کہ ایک مشت داڑھی رکھنا شرعاً واجب ہے، اس سے کم کرانا یا منڈانا ناجائز اور گناہ ہے اور ایسا شخص فاسق ہے، لہذا جس شخص کی داڑھی شرعی مقدار سے کم ہو ایسے شخص کو کسی بھی نماز میں اپنے اختیار سے امام بنانا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا،اذان اور اقامت دینا مکروہ تحریمی ہے، البتہ اگر نمازیوں میں سے کوئی بھی داڑھی والا نہ ہو تو مجبوری کی حالت میں بغیر داڑھی والے شخص کی امامت میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ 2) واضح رہے کہ ٹوپی پہننا سنن زوائد میں سے ہے اور مستحب عمل ہے ، اس لیے بغیر کسی مجبوری کے ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے، البتہ اگر مجبوری ہو (ٹوپی دستیاب نہ ہو یا بھول جائے)تو پھر نماز ننگے سر پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں۔
صحیح مسلم:(رقم الحديث 56،ط:دار طوق النجاۃ)* "عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، و السواك، واستنشاق الماء، وقص الأظفار، وغسل البراجم، ونتف الإبط، وحلق العانة، وانتقاص الماء" *سنن أبي داود:(442/1،رقم الحديث:590،ط:دار الرسالة العالمية)* حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا حسين بن عيسى الحنفي، حدثنا الحكم بن أبان، عن عكرمة عن ابن عباس قال: قال رسول الله - ﷺ -: «ليؤذن لكم خياركم، وليؤمكم قراؤكم» . *الشامية:(2/ 418،ط:دارالفكر)* " وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم فتح. مطلب في الأخذ من اللحية (قوله: وأما الأخذ منها إلخ) بهذا وفق في الفتح بين ما مر وبين ما في الصحيحين عن ابن عمر عنه صلى الله عليه وسلم: «أحفوا الشوارب واعفوا اللحية» قال: لأنه صح عن ابن عمر راوي هذا الحديث أنه كان يأخذ الفاضل عن القبضة، فإن لم يحمل على النسخ كما هو أصلنا في عمل الراوي على خلاف مرويه مع أنه روي عن غير الراوي وعن النبي صلى الله عليه وسلم يحمل الإعفاء على إعفائها عن أن يأخذ غالبها أو كلها كما هو فعل مجوس الأعاجم من حلق لحاهم، ويؤيده ما في مسلم عن أبي هريرة عنه صلى الله عليه وسلم: «جزوا الشوارب واعفوا اللحى خالفوا المجوس» فهذه الجملة واقعة موقع التعليل، وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد اهـ ملخصا". *الهندية: (1/ 85،ط:دارالفکر)* "وتجوز إمامة الأعرابي والأعمى والعبد، وولد الزنا والفاسق. كذا في الخلاصة إلا أنها تكره. هكذا في المتون". *درر الحكام: (1/ 109،ط:دار إحياء الكتب العربية)* (وصلاته حاسرا رأسه) للتكاسل وعدم المبالاة (لا للتذلل) حتى لو كان له لم يكره..