مفتیان کرام ذرا رہنمائی فرمائیں کہ ہم بعض دفعہ کوئی چیز خریدتے ہیں، لیکن وہ پیک ہوتی ہے ، ہم بغیر کاٹن کھولے اس کو خرید لیتے ہیں، اگر اس میں کوئی چیز خراب نکلتی ہے تو کیا ہمیں واپس کرنے کا اختیار ہوگا؟
خیارِ رؤیت اس اختیار کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص بغیر دیکھے کوئی چیز خریدے، پھر دیکھنے کے بعد اگر وہ چیز پسند نہ آئے یا اس میں کوئی عیب ہو تو اسے سودا ختم کر کے واپس کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے، لہذا بغیر دیکھے پیک شدہ چیز خریدنا شرعاً جائز ہے، البتہ جب خریدار چیز کو کھول کر دیکھے تو اسے اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ چیز پسند نہ آئے یا اس میں کوئی عیب ہو تو اسے واپس کر دے۔
*الهندية:(57/3،ط: دارالفكر)* شراء ما لم يره جائز كذا في الحاوي وصورة المسألة أن يقول الرجل لغيره: بعت منك هذا الثوب الذي في كمي هذا وصفته كذا والدرة التي في كفي هذه وصفتها كذا أو لم يذكر الصفة، أو يقول: بعت منك هذه الجارية المنتقبة. وأما إذا قال: بعت منك ما في كمي هذا أو ما في كفي هذه من شيء هل يجوز هذا البيع؟ لم يذكره في المبسوط قال عامة مشايخنا: إطلاق الجواب يدل على جوازه عندنا كذا في المحيط من اشترى شيئا لم يره فله الخيار إذا رآه إن شاء أخذه بجميع ثمنه وإن شاء رده سواء رآه على الصفة التي وصفت له أو على خلافها كذا في فتح القدير هو خيار يثبت حكما لا بالشرط كذا في الجوهرة النيرة. *اللباب في شرح الكتاب:(15/2،ط:المكتبة العلمية )* ومن اشترى شيئًا لم يره فالبيع جائزٌ، وله الخيار إذا رآه: إن شاء أخذه، وإن شاء رده.