میں نے کسی سے سنا تھا کہ معتکف کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ اعتکاف کے دن پورے ہونے کے بعد عید کی نماز پڑھ کر گھر لوٹے۔ کیا یہ بات ٹھیک ہے؟
واضح رہے کہ جو شخص رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھا ہو، اس کے لیے عید الفطر کا چاند نکلنے تک مسجد میں معتکف رہنا ضروری ہے، اس کو چاند نکلنے کے بعد گھر جانے کی اجازت ہے، البتہ بہتریہ ہے عید کی نماز ادا کر کے گھر لوٹے۔
*الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:(3/ 1773،ط: دار الفكر)* يندب مكث المعتكف ليلة العيد إذا اتصل اعتكافه بها، ليخرج منه إلى المصلى، فيوصل عبادة بعبادة، ولما ورد من فضل إحياء هذه الليلة: «من قام ليلتي العيد، محتسبا لله تعالى، لم يمت قلبه يوم تموت القلوب أي أن الله يثبته على الإيمان عند النزع وعند سؤال الملكين وسؤال القيامة.