میں اعتکاف بیٹھا ہوں اور میرے کپڑے میلے ہو گئے ہیں، جبکہ میرے پاس دوسرا جوڑا موجود ہے، مگر وہ استری شدہ نہیں ہے اور بغیر استری کے برا لگتا ہے تو کیا میں مسجد میں موجود خادم کی استری استعمال کر کے اپنے کپڑے مسجد کے اندر استری کر سکتا ہوں؟
واضح رہے کہ ضرورت کے وقت معتکف کے لیے مسجد کے اندر ایسے کام کرنا جائز ہے، جن سے مسجد کے آداب و احترام میں کوئی خلل نہ آئے، اگر کپڑے استری کروانے کا باہر انتظام ممکن ہو تو بہتر ہے کہ وہیں کروا لے، لیکن اگر باہر استری کروانے کی سہولت میسر نہ ہو اور بغیر استری کپڑے پہننا ناگوار یا باعثِ تکلیف ہو تو حاجت کے پیشِ نظر مسجد کے اندر استری کرنا جائز ہے، البتہ اس صورت میں استری کے دوران استعمال ہونے والی بجلی کی رقم مسجد کے اخراجات میں شامل کرنی ہوگی۔
*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(2/ 116)*
ولا بأس للمعتكف أن يبيع ويشتري ويتزوج ويراجع ويلبس ويتطيب ويدهن ويأكل ويشرب بعد غروب الشمس إلى طلوع الفجر ويتحدث ما بدا له بعد أن لا يكون صائما وينام في المسجد.
*درر الحكام شرح غرر الأحكام:(1/ 214،ط:دار إحياء الكتب العربية)*
وكذا قال قاضي خان لا بأس للمعتكف أن يبيع ويشتري أراد به الطعام وما لا بد له منه أما إذا أراد أن يتخذه متجرا فيكره ذلك.