مفتی صاحب! حالیہ بارش اور طوفانی ہوا کی وجہ سے ہمارے محلے کے کئی گھروں میں پانی ٹپکنے لگا، جس کے باعث اعتکاف میں بیٹھی خواتین کو اپنے مخصوص اعتکاف والے کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے میں منتقل ہونا پڑا۔ کیا اس صورت میں ان خواتین کا اعتکاف برقرار رہا یا فاسد ہوگیا؟
واضح رہے کہ عورت جس جگہ (گھر کے جس حصے میں) اعتکاف کی نیت کر لے، اس کے لیے بغیر شرعی یا طبعی ضرورت کے وہاں سے نکلنا جائز نہیں اور اگر بلاعذر نکلے تو اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب بارش اور طوفانی ہوا کی وجہ سے پانی ٹپکنے لگا اور متعکفہ (اعتکاف کرنے والی خاتون) کو اپنے اعتکاف والے کمرے سے دوسرے کمرے میں منتقل ہونا پڑا تو اس منتقل ہونے سے اعتکاف فاسد ہوگیا، البتہ چونکہ یہ انتقال مجبوری اور طبعی عذر کی بنا پر تھا، اس لیے وہ گناہ گار نہیں ہوگی، تاہم اس اعتکاف کی قضا اس کے ذمہ لازم ہوگی۔ قضا راجح قول کے مطابق ایک دن اور ایک رات ہوگی، جس کا طریقہ یہ ہے کہ رمضان میں یا رمضان کے بعد قضا کرے یعنی کسی دن سورج غروب ہونے سے پہلے گھر میں مخصوص جگہ پر اعتکاف کے لیے بیٹھ جائے اور اگلے دن کا روزہ رکھے اور اگلے دن سورج غروب ہونے کے بعد اس جگہ سے باہر نکل کر اعتکاف ختم کر دے ۔
*الدرالمختار:(447/2،ط: دارالفكر)* (فلو خرج) ولو ناسيا (ساعة) زمانية لا رملية كما مر (بلا عذر فسد) فيقضيه إلا إذا أفسده بالردة واعتبرا أكثر النهار قالوا: وهو الاستحسان وبحث فيه الكمال (و) إن خرج (بعذر يغلب وقوعه) وهو ما مر لا غير (لا) لا يفسد وأما ما لا يغلب كإنجاء غريق وانهدام مسجد فمسقط للإثم لا للبطلان وإلا لكان النسيان أولى بعدم الفساد كما حققه الكمال خلافا لما فصله الزيلعي وغيره. *العناية شرح الهداية:(393/2،ط: دارالفكر)* ولو شرع فيه ثم قطعه لا يلزمه القضاء في رواية الأصل لأنه غير مقدر فلم يكن القطع إبطالا. وفي رواية الحسن: يلزمه لأنه مقدر باليوم كالصوم. *الشامية:(2/444،ط:دارالفكر)* أما النفل) أي الشامل للسنة المؤكدة ح.قلت: قدمنا ما يفيد اشتراط الصوم فيها بناء على أنها مقدرة بالعشر الأخير ومفاد التقدير أيضا اللزوم بالشروع تأمل ثم رأيت المحقق ابن الهمام قال: ومقتضى النظر لو شرع في المسنون أعني العشر الأواخر بنيته ثم أفسده أن يجب قضاؤه تخريجا على قول أبي يوسف في الشروع في نفل الصلاة تناوبا أربعا لا على قولهما اهـ أي يلزمه قضاء العشر كله لو أفسد بعضه كما يلزمه قضاء أربع لو شرع في نفل ثم أفسد الشفع الأول عند أبي يوسف، لكن صحح في الخلاصة أنه لا يقضي لا ركعتين كقولهما نعم اختار في شرح المنية قضاء الأربع اتفاقا في الراتبة كالأربع قبل الظهر والجمعة وهو اختيار الفضلي وصححه في النصاب وتقدم تمامه في النوافل وظاهر الرواية خلافه وعلى كل فيظهر من بحث ابن الهمام لزوم الاعتكاف المسنون بالشروع وإن لزوم قضاء جميعه أو باقيه مخرج على قول أبي يوسف أما على قول غيره فيقضي اليوم الذي أفسده لاستقلال كل يوم بنفسه.