نمازی کے آگے سے ہٹنے کا حکم

فتوی نمبر :
758
عبادات / نماز /

نمازی کے آگے سے ہٹنے کا حکم

مفتی صاحب کیا نمازی کے آگے بیٹھا ہوا شخص دائیں یا بائیں کھسک کر جا سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنا منع ہے اور اس پر سخت وعید آئی ہے، البتہ اگر کوئی شخص نمازی کے سامنے بیٹھا ہو اور وہ اپنی جگہ سے تھوڑا کھسک کر پیچھے یا کسی طرف چلا جائے تو یہ گزرنے کے حکم میں شامل نہیں ہوتا، لہٰذا ایسی صورت جائز ہے اور اس میں کوئی گناہ نہیں۔

حوالہ جات

*الشامية:(636/1،ط: دارالفكر)*
ولو مر اثنان يقوم أحدهما أمامه ويمر الآخر ويفعل الآخر هكذا يمران، وإن معه دابة فمر راكبا أثم، وإن نزل وتستر بالدابة ومر لم يأثم، ولو مر رجلان متحاذيين فالذي يلي المصلي هو الآثم قنية.

*الهندية:(104/1،ط: دارالفكر)*
ولو كان يصلي في الدكان فإن كانت أعضاء المار تحاذي أعضاء المصلي يكره وإلا فلا كذا في محيط السرخسي ولو مر رجلان متحاذيان فالكراهة تلحق الذي يلي المصلي...ولو مر اثنان يقوم أحدهما أمامه ويمر الآخر ويفعل الآخر. هكذا ويمران كذا في القنية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
55
فتوی نمبر 758کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --