حضرات علمائے کرام اور مفتیان عظام! مسئلہ یہ ہے کہ ایک گونگے اور کا نوں سے بہرے مرد کے ایجاب وقبول کا طریقہ کار بتا دیں۔ شکریہ
اگر لڑکا گونگا اور بہرا ہو، لیکن لکھنا پڑھنا جانتا ہو تو اس کا نکاح کتابت کے ذریعے منعقد ہوسکتا ہے؛ یعنی ایجاب تحریری صورت میں اس کے سامنے پیش کیا جائے اور وہ تحریراً ”مجھے قبول ہے“ لکھ دے تو نکاح منعقد ہوجائے گا۔ اور اگر وہ لکھنا پڑھنا بھی نہ جانتا ہو تو اشارے کے ذریعے اس کی رضامندی معلوم کر کے نکاح منعقد کیا جاسکتا ہے۔
الهندية:(270/1،ط: دارالفكر) وكما ينعقد بالعبارة ينعقد بالإشارة من الأخرس إن كانت إشارته معلومة، كذا في البدائع. ولا ينعقد بالتعاطي، كذا في النهاية ولا ينعقد بالكتابة من الحاضرين فلو كتب تزوجتك فكتبت قبلت؛ لم ينعقد هكذا في النهر الفائق. بدائع الصنائع:(232/2،ط:دار الكتب العلمية) وكما ينعقد النكاح بالعبارة ينعقد بالإشارة من الأخرس إذا كانت إشارته معلومة وينعقد بالكتابة؛ لأن الكتاب من الغائب خطابه - والله تعالى أعلم .