السلام علیکم امام صاحب نے ظہر کی نماز میں قعدہ اولیٰ نہیں کیا اور تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوگئے، پھر کسی نے لقمہ دیا تو واپس لوٹ کر قعدہ اولی کیا اور پھر آخر میں سجدہ سہو کرلیا، کیا نماز ہوگئی ہے یا نہیں؟
نماز میں قعدہ اولیٰ واجب ہے، اگر نمازی اسے بھول کر ترک کر دے اور تیسری رکعت کے لیے اٹھنے کے قریب ہو یا مکمل طور پر کھڑا ہوچکا ہو تو دوبارہ قعدہ کے لیے نہ لوٹے، بلکہ نماز مکمل کرکے آخر میں سجدۂ سہو کرے۔ پوچھی گئی صورت میں امام صاحب کو واپس نہیں لوٹنا چاہیے تھا، بلکہ صرف سجدہ سہو کر لینے سے نماز ہو جاتی ، تاہم مذکورہ صورت میں بھی نماز درست ہو گئی۔
صحيح البخاري:(1/ 411،رقم الحديث: 1224،ط: دار طوق النجاة ) عن عبد الله بن بحينة رضي الله عنه أنه قال: صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين من بعض الصلوات، ثم قام فلم يجلس، فقام الناس معه، فلما قضى صلاته ونظرنا تسليمه، كبر قبل التسليم، فسجد سجدتين وهو جالس، ثم سلم. الدرالمختار:(2/ 84، ط:دارالفكر) (وإلا) أي وإن استقام قائما (لا) يعود لاشتغاله بفرض القيام (وسجد للسهو) لترك الواجب (فلو عاد إلى القعود) بعد ذلك (تفسد صلاته) لرفض الفرض لما ليس بفرض وصححه الزيلعي (وقيل لا) تفسد لكنه يكون مسيئا ويسجد لتأخير الواجب (وهو الأشبه) كما حققه الكمال وهو الحق . الهندية:(1/ 126، ط:دارالفكر) (ثم واجبات الصلاة أنواع)... (ومنها) القعدة الأولى حتى لو تركها يجب عليه السهو، كذا في التبيين.