السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی ملکیتی دکان یا جگہ کسی بینک کو کرائے پر دے، تو کیا اس سے حاصل ہونے والا کرایہ اس شخص کے لیے شرعاً جائز ہے؟ نیز یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ بینک کی شرعی اعتبار سے کیا مختلف اقسام ہیں؟ کیا جگہ کرائے پر دینے کے لیے ضروری ہے کہ بینک اسلامک بینک ہو؟ اگر کسی شخص نے پہلے ہی اپنی جگہ کسی غیر اسلامی/روایتی بینک کو کرائے پر دے رکھی ہو اور اس سے کرایہ بھی وصول کر رہا ہو، تو اس صورت میں اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا موجودہ کرایہ جاری رکھ سکتا ہے، یا معاہدہ ختم کرنا ضروری ہوگا؟ اور سابقہ وصول شدہ کرائے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ براہِ کرم ان تمام صورتوں کا شرعی حکم واضح فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
واضح رہے کہ جو بینک اسلامی اصولوں کے مطابق کام کرتے ہیں اور سودی لین دین نہیں کرتے، ان کے ساتھ معاملات کرنا جائز ہے، میزان بینک چونکہ اپنی تمام تر خدمات اسلامی اصولوں کے مطابق، مستند علما کرام کی زیر نگرانی، سر انجام دے رہا ہے، اس لیے میزان بینک کو اپنی جگہ کرائے پر دینا جائز ہے، اس سے حاصل ہونے والی آمدن حلال ہے، البتہ جو بینک سودی معاملات کرتے ہیں، انہیں اپنی جگہ کرائے پر دینا گناہ میں معاونت اور اس کا سبب بننا ہے، اس لیے سودی بینک کو اپنی جگہ کرائے پر دینا شرعاً جائز نہیں، اس سے حاصل ہونے والا کرایہ بھی حلال نہیں۔
القرآن الکریم: (المائدۃ: 2:5) وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ. الشامية: (392/6،ط: دارالفکر) (و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح) و أما الأمصار و قرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها و خص سواد الكوفة ، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) و قالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية و به قالت الثلاثة زيلعي . المبسوط للسرخسي:(38/16،ط:دار المعرفۃ) وإذا استأجر الذمي من المسلم بيتا ليبيع فيه الخمر لم يجز؛ لأنه معصية فلا ينعقد العقد عليه ولا أجر له عندهما، وعند أبي حنيفة - رحمه الله - يجوز والشافعي - رحمه الله - يجوز هذا العقد؛ لأن العقد يرد على منفعة البيت ولا يتعين عليه بيع الخمر فيه فله أن يبيع فيه شيئا آخر يجوز العقد لهذا، ولكنا نقول تصريحهما بالمقصود لا يجوز اعتبار معنى آخر فيه، وما صرحا به معصية... واستئجار الذمي الدابة من المسلم، أو السفينة لينقل عليها خمرا على الخلاف الذي بينا ... ولا بأس بأن يؤاجر المسلم دارا من الذمي ليسكنها فإن شرب فيها الخمر، أو عبد فيها الصليب، أو أدخل فيها الخنازير لم يلحق المسلم إثم في شيء من ذلك؛ لأنه لم يؤاجرها لذلك والمعصية في فعل المستأجر وفعله دون قصد رب الدار فلا إثم على رب الدار في ذلك كمن باع غلاما ممن يقصد الفاحشة به، أو باع جارية ممن لا يشتريها، أو يأتيها في غير المأتى لم يلحق البائع إثم في شيء من هذه الأفعال التي يأتي بها المشتري، وكذلك لو اتخذ فيها بيعة، أو كنيسة أو باع فيها الخمر بعد أن يكون ذلك في السواد ۔ فقه البیوع: (186/1، ط: معارف القرآن) "وان لم یکن محرکا و داعیا، بل موصلا محضا، وھو مع ذلك سبب قریب بحیث لا یحتاج فی اقامة المعصیة به الی احداث صنعة من الفاعل، کبیع السلاح من اھل الفتنة، وبیع الامرد ممن یعصی به واجارۃ البیت ممن یبیع فیه الخمر او یتخذہ کنیسة او بیت نار وامثالھا فکله مکروہ تحریما بشرط ان یعلم به البائع والمؤجر، من دون تصریح به باللسان، فانه ان لم یعلم کان معذورا وان علم و صرح کان داخلا فی الاعانة المحرمة".