ایک مریض گزشتہ دو ماہ سے کبھی بے ہوش رہتا ہے اور کبھی ہوش میں آتا ہے۔ بعض اوقات مسلسل بے ہوشی کی حالت میں کئی نمازوں کے اوقات گزر جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں جو نمازیں اس کی بے ہوشی کے دوران فوت ہوجائیں، ان کا کیا حکم ہے؟ کیا ہوش میں آنے کے بعد ان نمازوں کی قضا یا فدیہ لازم ہوگا؟
اگر کوئی شخص ایسی مکمل بے ہوشی میں مبتلا ہوجائے کہ اسے نماز کا شعور نہ رہے اور اس حالت میں ایک دن اور ایک رات سے زیادہ وقت گزر جائے، یعنی چھ نمازوں کا وقت گزر جائے تو ہوش میں آنے کے بعد اس دوران فوت ہونے والی نمازوں کی قضا لازم نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کا فدیہ دینا لازم ہوتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مذکور مریض کو ایسی حالت میں مسلسل بے ہوشی رہی اور اس دوران چھ نمازوں کے اوقات گزر گئے تو ان نمازوں کی قضا لازم نہیں ہوگی، البتہ جب اسے ہوش آئے اور نماز پڑھنے کے قابل ہو تو آئندہ نمازیں حسبِ استطاعت ادا کرنا لازم ہوں گی۔
الدرالمختار:(102/2،ط: دارالفكر) (ومن جن أو أغمي عليه) ولو بفزع من سبع أو آدمي (يوما وليلة قضى الخمس وإن زاد وقت صلاة) سادسة (لا) للحرج. ولو أفاق في المدة، فإن لإفاقته وقت معلوم قضى وإلا لا (زال عقله ببنج أو خمر) أو دواء (لزمه القضاء وإن طالت) لأنه بصنع العباد كالنوم. الشامية:(102/2،ط: دارالفكر) (قوله ومن جن أو أغمي عليه) الجنون آفة تسلب العقل والإغماء آفة تستره ط. (قوله وقت صلاة) مرفوع على أنه فاعل زاد أو منصوب على أنه ظرف لزاد وفاعل زاد ضمير الجنون ح عن القهستاني. واعتبر الزيادة بالأوقات على قول الثالث وهو الأصح وعند الثاني بالساعات وكل رواية عن الإمام، فإذا أصابه ذلك قبل الزوال ثم أفاق من الغد بعده قبل خروج الوقت سقط القضاء عند الثاني لا الثالث بحر، والمراد بالساعات الأزمنة لا ما تعارفه أهل النجوم درر أي من كون الساعة خمس عشرة درجة فالمراد عند الثاني الزيادة بشيء من الزمان وإن قل كما في غرر الأذكار والبرجندي إسماعيل. حاشية الطحطاوي:(435/1،ط:دار الكتب العلمية) ومن جن" بعارض سماوي "أو أغمي عليه" ولو بفزع من سبع أو آدمي واستمر به "خمس صلوات قضى" تلك الصلوات "ولو" كانت "أكثر" بأن خرج وقت السادسة "لا" يقضي ما فاته كذا عن ابن عمر في الإغماء والجنون مثله هو الصحيح.