کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ا س مسئلہ کے بارے میں کہ یتیم کے مال کوخرچ کرنا کیسا ہے ؟ جب کہ اس کے والدنے کافی مال بطور وراثت چھوڑا ہو ۔
واضح رہے کہ یتیم کے مال میں بلاضرورت تصرف کرنا ، اسے اپنی ذاتی ضروریات میں خرچ کرنا جائز نہیں ، البتہ اس کے مال سے اس کی ضروریات کوپورا کرنا جائز ہے ۔
القرأن الكريم: [النساء:/4 2] وَءَاتُواْ ٱلۡيَتَٰمَىٰٓ أَمۡوَٰلَهُمۡۖ وَلَا تَتَبَدَّلُواْ ٱلۡخَبِيثَ بِٱلطَّيِّبِۖ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَهُمۡ إِلَىٰٓ أَمۡوَٰلِكُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ حُوبٗا كَبِيرٗا. الموسوعة الفقهية الكويتية: (45/ 256، ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامىة ) إن كان لليتيم مال فعلى الوصي الإنفاق عليه بالمعروف لا على وجه الإسراف ولا على وجه التضييق.