امانت و ودیعت

بلٹی والے کی دکان میں کسی کا سامان رہ جائے تو اس کے استعمال کرنے اور بلٹی والے کا اس سے اپنا حق وصول کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1676
معاملات / امانات / امانت و ودیعت

بلٹی والے کی دکان میں کسی کا سامان رہ جائے تو اس کے استعمال کرنے اور بلٹی والے کا اس سے اپنا حق وصول کرنے کا حکم

ہم اڈے پر بِلٹی کا کاروبار کرتے ہیں، بعض اوقات کوئی شخص سامان بھیج دیتا ہے، لیکن اس کا مالک اسے لینے نہیں آتا، ایسی صورت میں اگر ہم اس سامان کو استعمال کر لیں تو کیا یہ جائز ہے؟ کیونکہ اس پر ہمارا خرچ بھی ہوا ہوتا ہے اور بعض اوقات خرچ کم جبکہ سامان کی مالیت زیادہ ہوتی ہے۔ بینوا توجروا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کسی کو کوئی گم شدہ رقم یا چیز ملے اور اس کا مالک معلوم ہو تو فوراً مالک تک پہنچا دے اور اگر امید ہو کہ مالک خود تلاش کرتا ہوا آ جائے گا تو وہ چیز وہیں چھوڑ دے،
اگر مالک معلوم نہ ہو اور ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ چیز اٹھا لے، اسے "لقطہ" کہا جاتا ہے، لقطہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی گمشدگی کا اعلان کیا جائے اور مالک تک پہنچانے کی کوشش کی جائے، اگر مالک نہ ملے اور حفاظت دشوار ہو تو اس چیز کو صدقہ کر دیا جائے۔
مزید یہ کہ اگر پانے والا خود فقیر ہو تو وہ اس چیز کو اپنے استعمال میں لا سکتا ہے، تاہم صدقہ کرنے یا فقیر ہونے کی وجہ سے خود استعمال کرنے کی صورت میں اگر بعد میں مالک آ جائے تو مالک کو اختیار ہوگا، اگر واپس لینا چاہے تو اسے آپ پیسے ادا کریں گے، اگر وہ کیے گئے صدقہ پر راضی ہے تو اسے ثواب مل جائے گا۔
پوچھی گئی صورت میں اگر مالک کے آجانے کی امید ہے تو اسے اپنے پاس محفوظ رکھیں اور مالک کے آنے پر اسے وہ سامان حوالے کردیں اور اپنا حق اس سے وصول کرلیں، لیکن اگر مالک کے آنے کی امید ختم ہو جائے اور آپ خود مستحق ہیں تو یہ سارا سامان استعمال کرسکتے ہیں اور اگر خود مستحق نہیں ہیں تو اس سے اپنے حق کے بقدر وصول کرنے کے بعد بقیہ سامان کسی مستحق زکوۃ کو صدقہ کر دیں، بہر صورت مالک کے واپس آنے کے بعد اس کو اختیار ہوگا، اگر وہ آپ کے کیے گئے صدقے پر راضی نہ ہوا تو آپ پر اس کی بقدر قیمت لازم ہوگی۔

حوالہ جات

*رد المحتار:(287/4 ،ط: دار الفکر)*
( وعرف ) أي نادى عليها حيث وجدها وفي المجامع ( إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها أو أنها تفسد إن بقيت كالأطعمة ) والثمار ( كانت أمانة ) لم تضمن بلا تعد فلو لم يشهد مع التمكن منه أو لم يعرفها ضمن إن أنكر ربها أخذه للرد وقبل الثاني قوله بيمينه وبه نأخذ حاوي وأقره المصنف وغيره ( ولو من الحرم أو قليلة أو كثيرة ) فلا فرق بين مكان ومكان ولقطة ولقطة ( فينتفع) الرافع ( بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه إلا إذا عرف أنها لذمي فإنها توضع في بيت المال ) تاترخانية و في القنية لو رجا وجود المالك وجب الإيصاء ( فإن جاء مالكها ) بعد التصدق ( خير بين إجازة فعله ولو بعد هلاكها) وله ثوابها ( أو تضمينه ).

*الهداية في شرح بداية المبتدي: (2 / 418،ط: دار احیاء التراث العربي)*
قال: فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها إيصالا للحق إلى المستحق وهو واجب بقدر الإمكان وذلك بإيصال عينها عند الظفر بصاحبها وإيصال العوض وهو الثواب على اعتبار إجازة التصدق بها وإن شاء أمسكها رجاء الظفر بصاحبها.

*الهندية:(289/2 ،ط:دارالفکر)*
ویعرف الملتقط اللقطۃ فی الاسواق والشوارع مدۃ یغلب علی ظنہ ان صاحبہا لا یطلبہا بعد ذلک ہو الصحیح کذا فی مجمع البحرین.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
25
فتوی نمبر 1676کی تصدیق کریں