السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مسئلہ:کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عزام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک خاتون بیمار ہے اور وہ اپنی شادی شدہ بیٹی کے ہاں رہ رہی ہے اور وہاں ان کا علاج ہو رہا ہے، ان کے علاج معالجے کے لیے ان کی بیٹی کو عزیز و اقارب نے کچھ رقم دی کہ ان کے علاج پر خرچ کیا جائے ،پھر اس خاتون کا انتقال ہوا، انتقال کے بعد کچھ اس رقم میں سے کچھ بچ گئی ہے، اس بچ جانے والی رقم میں سے کچھ رقم کو ان کی بیٹی نے اپنے بہن بھائیوں اور والد پر خرچ کیا ہے اور کچھ رقم اس میں سے مسجد اورمدرسے کے تعمیرات اور کار خیر پر خرچ کیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیسہ ان کی والدہ کے ترکے میں شامل ہے یا نہیں؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ جو ان کی بیٹی نے اپنے بہن بھائیوں پر اور مسجد پر خرچ کیا ہے یہ خرچ کرنا ان کو جائز تھا یا نہیں اگر جائز نہیں تھا تو اب ان کو کیا کرنا چاہیے؟
شرعی احکام کے تناظر میں جواب عنایت فرما کر مشکور و ممنون فرمائیں ۔
المستفتی عبید الرحمن کراچی
پوچھی گئی صورت میں علاج و معالجے کے لیے دی گئی رقم کا حکم اس بات پر ہے کہ دیتے وقت دینے والوں کی نیت کیا تھی،اگر عزیز و اقارب نے کسی بیمار خاتون کو بطورِ ہمدردی اور مالی مدد رقم دی ہو اور یہ شرط نہ لگائی ہو کہ علاج کے بعد بچ جانے والی رقم واپس کی جائے گی، تو ایسی رقم شرعاً مریضہ کی ملکیت بن جاتی ہے، چنانچہ علاج کے بعد اگر کچھ رقم بچ جائے اور بعد میں خاتون کا انتقال ہو جائے تو وہ بچی ہوئی رقم اس کے ترکہ میں شامل ہوگی اور تمام ورثہ میں مقررہ شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہوگا۔
اگر رقم دیتے وقت یہ کہا گیا ہو کہ یہ رقم صرف علاج کے لیے ہے تو ایسی صورت میں مریضہ اس رقم کی مالک نہیں بنتی، لہٰذا علاج کے بعد جو رقم بچ جائے وہ ترکہ میں شامل نہیں ہوگی بلکہ اصل رقم دینے والوں کو واپس کرنا لازم ہوگا۔
نیز پوچھی گئی صورت میں بچ جانے والی رقم کا بہن بھائیوں پر خرچ کرنا اور مسجد میں دینا جائز نہیں۔
*مرقاة المفاتيح:(1303/4،ط:دار الفكر)*
قال الطيبي: إذا تصدق على المحتاج بشيء ملكه فله أن يهدي به إلى غيره اهـ وهو معنى قول ابن الملك: فيحل التصدق على من حرم عليه بطريق الهدية.
*الدرالمختار:(687/5،ط: دارالفكر)*
(هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه.
*البحر الرائق:(284/7،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
(قوله كتاب الهبة)هي لغة التفضل على الغير بما ينفعه ولو غير مال واصطلاحا ما أشار إليه المصنف (قوله هي تمليك العين بلا عوض) فخرجت الإباحة والعارية والإجارة والبيع وهبة الدين ممن عليه فإنه إسقاط وإن كان بلفظ الهبة وفي الاختيار إن الهبة نوعان تمليك وإسقاط وعليهما الإجماع.
*الهندية:(567/3،ط:دار الفكر)*
ومنه أنه أمين فيما في يده كالمودع فيضمن بما يضمن به المودع ويبرأ به.