مفتی صاحب! میں نے ایک شخص کو موبائل عاریتا دیا تھا، وہ اب واپس نہیں کر رہا ، اس کا کیا حکم ہے؟
عاریت وہ چیز ہے جو کسی کو صرف استعمال کے لیے دی جائے، اس لیے عاریت میں دی گئی چیز امانت ہوتی ہے، امانت کو اس کے مالک کے مطالبے پر فوراً واپس کرنا ضروری ہے، بلا عذر امانت واپس کرنے سے انکار کرنا یا اس میں اپنی مرضی سے کسی قسم کا تصرف کرنا امانت میں خیانت اور دوسرے کے مال کو ناحق استعمال کرنا ہے، جو شرعاً ناجائز اور حرام ہے، قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں امانت میں خیانت کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ پوچھی گئی صورت میں شخصی مذکور پر لازم ہے کہ آپ کی عاریتا دی ہوئی چیز آپ کو واپس کرے،ورنہ گنہگار ہوگا۔
*القرآن الکریم:(البقرة: 283:2)* فَلْیُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَه وَلْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّه. *السنن الكبرى للبيهقي:(387/2،رقم الحديث:18851،ط:دار الكتب العلمية)* أخبرنا أبو الخير جامع بن أحمد بن محمد بن مهدي الوكيل، أنبأ أبو طاهر المحمدأباذي، ثنا عثمان بن سعيد الدارمي، ثنا مسلم بن إبراهيم، ثنا أبو هلال، عن قتادة، عن أنس رضي الله عنه قال: خطبنا رسول الله ﷺ فقال: «لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له». *الهندية:(338/4،ط: دارالفكر)* وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني.