مفتی صاحب ! ہماری ایک بڑی کمپنی ہے کورنگی میں ہماری کمپنی کے خریدار حضرات جو کہ کمپنی کے ملازم ہوتے ہیں مختلف دکانوں سے کمپنی کے لیے چیزیں خرید کر لاتے ہیں، لیکن بسا اوقات ان سے کوئی چیز ادھر ادھر ہو جاتی ہے ،جس کا ضمان ہم ان سے وصول کرتے ہیں اور ان کا عذر ہم تسلیم نہیں کرتے ،کیونکہ ہمیں یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید وہ چیز بلکہ ویسے ہی لکھوائی ہو اور اس کے پیسے کمپنی سے لے کر اپنے پاس رکھ لے، آیا اس صورت میں خریدار پر ضمان ڈالنا درست ہے ؟بغیر اس بات کے معلوم کیے کہ وہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ ،اس بارے میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے ،یا غلطی سے اس نے کوئی چیز کھو دی ہے۔ اس سلسلے میں ہماری رہنمائی فرمائی جزاکم اللہ خیرا
واضح رہے کہ آپ کی کمپنی کے ملازمین حضرات جو کمپنی کے لیے مختلف دکانوں سی چیزیں خرید کر لاتے ہیں، آپ کی طرف سے وکیل ہیں اور شریعت کی رو سے وکیل آمین ہوتا ہے، اس کے متعلق قاعدہ یہ ہے کہ اگر اس کے پاس امانت کی کوئی چیز ہلاک ہو جائے اور اس کی طرف سے کوتاہی اور تعدی ہو ،تو وہ ضامن ہوگا ،لیکن اگر اس کی طرف سے کوئی چیز تعدی کے بغیر ہی ہلاک ہو ،تووہ ضامن نہیں ہوگا ۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں ملازمین سے ہر صورت میں ضمان وصول کرنا درست نہیں، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ تعدی ان کی طرف سے ہے یا نہیں، اگر تعدی ثابت ہو جائے تو ضمان وصول کیا جائے ،ورنہ بلاوجہ ضمان وصول کرنا جائز نہیں، اس سے اجتناب ضروری ہے۔
بدائع الصنائع : (6/ 34، ط: دارالكتب العلمية ) (ومنها) : أن المقبوض في يد الوكيل بجهة التوكيل بالبيع والشراء وقبض الدين والعين وقضاء الدين - أمانة بمنزلة الوديعة، لأن يده يد نيابة عن الموكل بمنزلة يد المودع، فيضمن بما يضمن في الودائع، ويبرأ بما يبرأ فيها، ويكون القول قوله في دفع الضمان عن نفسه. الهندية: (3/ 567، ط: دارالفكر) (وأما صفتها) : فإنها من العقود الجائزة الغير اللازمة حتى ملك كل واحد من الوكيل والموكل العزل بدون صاحبه كذا في النهاية ومنه أنه أمين فيما في يده كالمودع فيضمن بما يضمن به المودع ويبرأ به. درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (3/ 561، ط:دارالجيل ) (المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان.