مفتی صاحب ! شیرشاہ میں ایک بلڈنگ بن رہی ہے، جس میں فلیٹ اور دکانوں کی تعمیر ہوگی، لوگ اس جگہ بکنگ کر رہے ہیں اور اس نقشے کے مطابق وہ لوگوں کو جگہ دیں گے ،مثال کے طور پر دوسری منزل پر جو کہ ابھی موجود بھی نہیں ہے ،پھر دکان نمبر 130 کی وہ سیل کرتے ہیں ،تو کیا ان کا یہ بیچنا جائزہے ؟ اور ان سے خریدنا کیسا ہے؟آدمی مالک بنے گا؟ یا نہیں اور اس میں گناہ ہوگا یا نہیں۔
پوچھی گئی صورت میں بلڈرز کا مذکورہ بلڈنگ میں فلیٹ بیچنا شرعا جائز ہے، کیونکہ بلڈنگ میں فلیٹ خریدنے کا معاملہ استصناع کہلاتا ہے، جس کے تحت فلیٹ خریدنے والا شخص بلڈنگ بنانے والے کو پیسے دے کر فلیٹ بنوانے کا آرڈر دیتا ہے ،جب فلیٹ بن کر تیار ہو جاتا ہے تو فلیٹ خریدار کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ البتہ یہ واضح رہے کہ فلیٹ کے مکمل ہونے اور سپردگی سے پہلے خریدار کے لیے آگے بیچنا جائز نہیں۔
بدائع الصنائع: (5/ 210، ط: دارالكتب العلمية ) لأن جوازه مع أن القياس يأباه ثبت بتعامل الناس فيختص بما لهم فيه تعامل، ويبقى الأمر فيها وراء ذلك موكولا إلى القياس. الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: (5/ 3657، ط: دارالفكر) وإنما يشمل أيضاً إقامة المباني وتوفير المساكن المرغوبة، وقد ساعد كل ذلك في التغلب على أزمة المساكن. ومن أبرز الأمثلة والتطبيقات لعقد الاستصناع بيع الدور والمنازل والبيوت السكنية على الخريطة ضمن أوصاف محددة. مجلة الأحكام العدلية: (ص75، ط:نور محمد كتب خانه كراتشي) (المادة 388) إذا قال شخص لأحد من أهل الصنائع: اصنع لي الشيء الفلاني بكذا قرشا وقبل الصانع ذلك انعقد البيع استصناعا. مثلا: لو أرى المشتري رجله لخفاف وقال له اصنع لي زوجي خف من نوع السختيان الفلاني بكذا قرشا وقبل البائع ، أو تقاول مع نجار على أن يصنع له زورقا ، أو سفينة وبين له طولها وعرضها وأوصافها اللازمة وقبل النجار انعقد الاستصناع.