مفتی صاحب! میں ایک موبائل والا ہوں، بعض دفعہ موبائل ہمارے پاس موجود نہیں ہوتا، لیکن گاہک سے ہم ریٹ طے کر لیتے ہیں اور کسی سے موبائل لے کر اسے مہنگا فروخت کر دیتے ہیں۔ اس کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ اگر کوئی چیز ملکیت میں موجود نہ ہو، اس کو بیچنا جائز نہیں ہے،لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ موبائل کے موجود ہونے سے پہلے کسٹمر سے معاملہ کرتے ہیں،اس لیے یہ ناجائز ہے۔ اس کی جائز صورت یہ ہے، کہ آپ اس سے معاملہ طے نہ کریں، بلکہ صرف وعدہ بیع کریں، پھر جب آپ موبائل خرید لیں، اس کے بعد اس کسٹمر کو بیچ دیں۔
مصنف ابن أبي شيبة: (4/ 311،ط:دارالتاج) 20499 - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم، عن أبي بشر، عن يوسف بن ماهك، عن حكيم بن حزام، قال: قلت: يا رسول الله، الرجل يأتيني ويسألني البيع ليس عندي، أبيعه منه، أبتاعه له من السوق؟ قال: فقال: «لا تبع ما ليس عندك» الدر المختار: (414،ط:دارالفکر) (وبيع ما ليس في ملكه) لبطلان بيع المعدوم وما له خطر العدم (لا بطريق السلم) فإنه صحيح، لانه عليه الصلاة والسلام نهي عن بيع ما ليس عند الانسان ورخص في السلم (و) بطل (بيع صرح بنفي الثمن فيه) لانعدام الركن وهو المال. (و) البيع الباطل (حكمه عدم ملك المشتري إياه) إذا قبضه (فلا ضمان لو هلك) المبيع (عنده) لانه أمانة، وصحح في القنية ضمانه، قيل وعليه الفتوى.