مفتی صاحب! میں اپنے ایک دوست کے ساتھ کاروبار کرنا چاہتا ہوں اور اس میں منافع سرمایہ کاری کے اعتبار سے تقسیم ہوگا اور اس دوست کے پیسوں کا مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ حلال ہیں یا حرام تو کیا ایسے دوست کے ساتھ شرکت کرنا، کاروبار کرنا درست ہے؟
واضح رہے کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ دوسرے مسلمانوں کے بارے میں نیک گمان رکھیں، لہذا جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ اس کا ذریعہ معاش حرام ہے تو اس کے ساتھ شراکت کرنا جائز ہے ۔
القرآن الکریم:(النور 12:24) "لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ" الهنديه:(3/210:دارالفكر) رجل اشترى من التاجر شيئا هل يلزمه السؤال أنه حلال أم حرام قالوا ينظر إن كان في بلد وزمان كان الغالب فيه هو الحلال في أسواقهم ليس على المشتري أن يسأل أنه حلال أم حرام ويبنى الحكم على الظاهر، وإن كان الغالب هو الحرام أو كان البائع رجلا يبيع الحلال والحرام يحتاط ويسأل أنه حلال أم حرام. ایضاً: (5/ 343) آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط.