کیا ایسا کرنا صحیح ہے کہ مضاربت میں نقصان مضارب سے لیا جائے؟
مضاربت میں منافع رب المال (جس کی طرف سے مال ہو) اور مضارب (کام کرنے والا) کے درمیان فیصد کے اعتبار سے تقسیم ہوتے ہیں، اگر خدانخواستہ نقصان ہو تو پہلے اس کو منافع میں سے پورا کیا جائے گا اور اگر نقصان کی تلافی نفع سے نہ ہو پائے تو اس کا ازالہ سرمائے سے کیا جائے گا، اس صورت میں کاروبار کرنے والے کو کچھ نہیں ملے گا اوراس کا نقصان یہی ہوگا کہ اس کی محنت رائیگاں جائے گی۔
الدرالمختار :(5/ 645، ط: دارالفكر) وشرعا (عقد شركة في الربح بمال من جانب) رب المال (وعمل من جانب) المضارب. بدائع الصنائع : (6/ 86، ط: دار الكتب العلمية ) لأن المضاربة نوع من الشركة، وهي الشركة في الربح، وهذا شرط يوجب قطع الشركة في الربح؛ لجواز أن لا يربح المضارب إلا هذا القدر المذكور، فيكون ذلك لأحدهما دون الآخر . البحر الرائق:(264/7،ط:دار الكتاب الإسلامي) الخامس أن يكون نصيب كل منهما معلوما فكل شرط يؤدي إلى جهالة الربح فهي فاسدة وما لا فلا مثل أن يشترط أن تكون الوضيعة على المضارب أو عليها فهي صحيحة وهو باطل السادس أن يكون المشروط للمضارب مشروطا من الربح حتى لو شرط له شيئا من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت.