مفتی صاحب ! میں نے ایک دوست کے ساتھ کاروبار میں شراکت کی، اس میں 40 فیصد انویسٹمنٹ میری تھی اور 60 فیصد اس کی تھی اور نفع اسی کے حساب سے ہم ہر مہینے آپس میں تقسیم کرتے رہے اور کاروبار میں نقصان آیا تو کیا نقصان بھی اسی حساب سے دونوں پر تقسیم ہوگا؟ یا صرف میرا دوست جو کاروبار کر رہا ہے اسی کو بھرنا ہوگا؟ شرعی رہنمائی درکار ہے۔
واضح رہے کہ شرکت میں جس طرح نفع شرکاء کے درمیان باہمی پہلے سے طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے، اسی طرح نقصان بھی شرکاء کے درمیان تقسیم ہوگا، البتہ منافع کی تقسیم کا تناسب شرکاء باہمی رضامندی سے پہلے سے طے کرسکتے ہیں، جبکہ نقصان ہر شریک کے سرمایہ کے تناسب سے تقسیم ہوگا، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کی سرمایہ کاری 40 فیصد اور آپ کے شریک کی سرمایہ کاری 60 فیصد ہے تو نقصان کی صورت میں 40 فیصد نقصان آپ کے ذمہ ہوگا، جبکہ 60 فیصد نقصان آپ کے شریک کے ذمہ ہوگا۔
الشامية: (5/ 648،ط:دارالفكر) (بخلاف الشركة) ؛ لأن العمل فيهما من الجانبين (وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهما معلوما) عند العقد. بدائع الصنائع: (6/ 62،ط:دار الكتب العلمية) إذا عرف هذا فنقول: إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال.