السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک شخص لکڑیوں کا کاروبار کرتا ہے اور وہ مجھے کہتا ہے کہ آپ مجھے پیسے دے دو ، آپ کو میں 20 روپے فی من کے حساب سے دوں گا اور باقی نفع میں لوں گا اور اگر نقصان ہوگا تو میرا ہو گا، آپ کو بس 20 روپے فی من کے حساب سے نفع ملے گا تو کیا اس طرح پیسے دینا اور ان کے ساتھ ایسا کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ شرکت (شراکت) میں بنیادی اصول یہ ہے کہ شرکاء باہمی رضامندی سے کاروبار میں حاصل ہونے والے منافع کو کسی متعین فیصدی تناسب کے مطابق تقسیم کریں، جبکہ نفع کی کوئی متعین رقم مقرر کرنا شرعاً درست نہیں، اسی طرح کاروبار میں نقصان ہونے کی صورت میں ہر شریک اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا سرمایہ فراہم کرنا اور اس کے بدلے فی من 20 روپے متعین نفع لینا، نیز کاروبار میں ہونے والے نقصان میں شریک نہ ہونا، شرعاً درست نہیں۔ اس کی درست صورت یہ ہے کہ نفع فیصدی تناسب سے، مثلاً 30 فیصد یا 40 فیصد کے حساب سے طے کیا جائے، جبکہ نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان برداشت کرے۔
بدائع الصنائع: (6/ 62،ط:دار الكتب العلمية) إذا عرف هذا فنقول: إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال، الشامية:(311،314/4،ط:دارالفکر) (وإما عنان إن تضمنت وكالة فقط) بيان لشرطها (فتصح من أهل التوكيل) كصبي ومعتوه يعقل البيع (وإن لم يكن أهلا للكفالة) لكونها لا تقتضي الكفالة بل الوكالة. (و تصح) عاما وخاصا ومطلقا ومؤقتا و (مع التفاضل في المال دون الربح وعكسه، وببعض المال دون بعض... وإن تفاوتت قيمتهما والربح على ما شرطا (و) مع (عدم الخلط) لاستناد الشركة في الربح: إلى العقد لا المال فلم يشترط مساواة واتحاد وخلط. قال ابن عابدین: (قوله: والربح على ما شرطا) أي من كونه بقدر رأس المال أو لا... وقيد بالربح؛ لأن الوضيعة على قدر المال وإن شرطا غير ذلك كما في الملتقى وغيره... قوله: فلم يشترط إلخ) تفريغ على قوله ومع التفاضل وما عطف عليه."