میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ اپنی عزت کی خاطر جھوٹی قسم کھا سکتے ہیں، اس کا یہ قول کس حد تک درست ہے؟
واضح رہے کہ جھوٹی قسم کھانا گناہِ کبیرہ ہے، حدیث شریف میں جھوٹی قسم کو شرک وغیرہ کے بعد بڑا گناہ کہا گیا ہے، لہٰذا اپنی عزت، بدنامی سے بچنے یا کسی دنیاوی فائدے کے حصول کے لیے جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانا شرعاً جائز نہیں، ایسے شخص کے لیے توبہ اور استغفار لازم ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کے دوست کا یہ کہنا کہ اپنی عزت یا بدنامی سے بچنے کے لیے جھوٹی قسم کھائی جا سکتی ہے، درست نہیں، بلکہ شریعت کے خلاف ہے۔
صحيح البخاري:(137/8، رقم الحديث:6675،ط:دار طوق النجاة) حدثنا محمد بن مقاتل، أخبرنا النضر، أخبرنا شعبة، حدثنا فراس قال: سمعت الشعبي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ قال: «الكبائر الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس.» سنن أبي داود: (5/ 147 ، رقم الحديث : 3242،ط: دارالرسالة العالمية ) عن عمران بن حصين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من حلف على يمين مصبورة كاذبا، فليتبؤأ بوجهه مقعده من النار. الدرالمختار: (3/ 712، ط: دارالفكر) (لا) يقسم (بغير الله تعالى كالنبي والقرآن والكعبة) قال الكمال: ولا يخفى أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا.