مفتی صاحب! اگر کوئی کسی کے ساتھ کاروبار میں شرکت کرنا چاہے اور کہے کہ میں نفع میں تو شریک ہوں گا، لیکن نقصان میں برداشت نہیں کروں گا تو آیا اس طرح شرکت کرنا درست ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ شرکت (شراکت) کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جس طرح شرکاء آپس کی رضامندی سے نفع کی تقسیم کا تناسب متعین کرتے ہیں، اسی طرح اگر کاروبار میں نقصان ہو جائے تو اس کا بوجھ بھی تمام شرکاء اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے برداشت کریں گے، لہٰذا اگر کوئی شخص یہ شرط لگائے کہ وہ نفع میں تو شریک ہوگا، لیکن نقصان کی ذمہ داری نہیں اٹھائے گا تو ایسی شرط شرعاً درست نہیں اور اس شرط کے ساتھ شرکت بھی صحیح نہیں ہوگی۔
بدائع الصنائع: (6/ 62،ط:دار الكتب العلمية) إذا عرف هذا فنقول: إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال، الشامية:(311،314/4،ط:دارالفکر) (وإما عنان إن تضمنت وكالة فقط) بيان لشرطها (فتصح من أهل التوكيل) كصبي ومعتوه يعقل البيع (وإن لم يكن أهلا للكفالة) لكونها لا تقتضي الكفالة بل الوكالة. (و تصح) عاما وخاصا ومطلقا ومؤقتا و (مع التفاضل في المال دون الربح وعكسه، وببعض المال دون بعض... وإن تفاوتت قيمتهما والربح على ما شرطا (و) مع (عدم الخلط) لاستناد الشركة في الربح: إلى العقد لا المال فلم يشترط مساواة واتحاد وخلط. قال ابن عابدین: (قوله: والربح على ما شرطا) أي من كونه بقدر رأس المال أو لا... وقيد بالربح؛ لأن الوضيعة على قدر المال وإن شرطا غير ذلك كما في الملتقى وغيره... قوله: فلم يشترط إلخ) تفريغ على قوله ومع التفاضل وما عطف عليه."