مفتی صاحب! میرا ایک کاروباری شخص پر قرض ہے، لیکن وہ ادا نہیں کر پا رہا تو اس نے کہا کہ آپ میرے ساتھ کاروبار میں اپنے قرض کی رقم کے بقدار شراکت دار بن جائیں تو کیا ایسا شراکت دار بننا صحیح ہے
واضح رہے کہ شرکت (شراکت) کے صحیح ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ شریک کی طرف سے سرمایہ نقد یا ایسا مال ہو جو عقدِ شرکت کے وقت سرمایہ کے طور پر موجود اور متعین ہو، محض کسی شخص کے ذمے واجب الادا قرض کو سرمایۂ شرکت قرار دے کر شراکت کرنا شرعاً درست نہیں، کیونکہ قرض شرکت کے لیے معتبر سرمایہ نہیں بنتا، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مقروض یہ کہتا ہے کہ آپ اپنی قرض کی رقم کے بدلے میرے کاروبار میں شریک بن جائیں تو صرف قرض کو سرمایہ قرار دے کر شرکت کرنا جائز نہیں، البتہ اگر مقروض پہلے قرض ادا کر دے، یا باہمی رضامندی سے قرض کی رقم الگ وصول کرکے اسے نئے سرے سے سرمایہ بنا کر عقدِ شرکت کیا جائے تو اس صورت میں شرعی اصولوں کے مطابق شرکت کی جا سکتی ہے۔
الدر المختار:(5/ 648،ط:دارالفکر) (وكون رأس المال عينا لا دينا) كما بسطه في الدرر. مجلة الأحكام العدلية: (ص257،ط:نور محمد) «المادة (1341) يشترط أن يكون رأس مال الشركة عينا ولا يكون دينا أي لا يكون المطلوب من ذمم الناس رأس مال للشركة. مثلا ليس لاثنين أن يتخذا دينهما الذي في ذمة آخر رأس مال للشركة فيعقدا عليه الشركة ، وإذا كان رأس مال أحدهما عينا والآخر دينا فلا تصح الشركة أيضا. موسوعة الفقه الاسلامي:(497/3،ط:بيت الأفكار الدولية) يجب على المقترض أن يرد إلى المقرض مثل المال الذي اقترضه نقدًا أو عينًا، المثل في المثليات، والقيمة في غيرها.