میں ایک صاحب سے کاروبار میں شراکت کے لیے رقم مانگ رہا ہوں، لیکن انہوں نے کہا کہ میرے پاس رقم نہیں یہ میری گاڑی ہے آپ اس کو فروخت کر لیں مثلاً اگر یہ دس لاکھ کی ہے تو آپ ایک سال بعد مجھے پندرہ لاکھ دیں، کیا ایسا کرنا درست ہے؟
واضح رہے کہ شرکت میں کسی ایک فریق کے لیے متعین نفع مقرر کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ نفع کو فیصد یا حصوں کے اعتبار سے متعین کرنا ضروری ہے، اسی طرح کسی شخص کو قرض دے کر اس پر نفع حاصل کرنا جائز نہیں، بلکہ قرض پر مشروط نفع لینا سود ہے، جو شرعاً حرام ہے، ادھار یا قسطوں پر گاڑی مہنگے داموں فروخت کرنا شرعاً جائز ہے۔ پوچھی گئی صورت میں اگر مذکور شخص آپ کو گاڑی کاروبار میں شرکت کے لیے دے رہے ہیں تو چونکہ نفع کی مقدار (مثلاً پندرہ لاکھ) پہلے سے متعین کر دی گئی ہے، اس لیے یہ صورت شرعاً جائز نہیں، البتہ نفع کو تناسب (فیصد یا حصوں، مثلاً دس فیصد یا آدھا آدھا) کے اعتبار سے طے کرسکتے ہیں۔ اگر وہ مذکور گاڑی اس مقصد سے دے رہے ہیں کہ آپ اسے فروخت کرکے رقم بطورِ قرض لے لیں اور ایک سال بعد اصل رقم کے ساتھ پانچ لاکھ روپے اضافی نفع کے طور پر ادا کریں، تو چونکہ قرض پر مشروط نفع لینا سود ہے، اس لیے یہ صورت بھی شرعاً ناجائز ہے۔ اگر وہ آپ کو گاڑی ادھار یا قسطوں پر زیادہ قیمت، مثلاً 15 لاکھ روپے میں فروخت کر رہے ہیں، تو چونکہ ادھار یا قسطوں پر گاڑی کو نقد قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، اس لیے یہ صورت جائز ہوگی۔
بدائع الصنائع:(59/6،ط: دارالکتب العلمیة) "(ومنها) : أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلايتحقق الشركة في الربح". الھندیة: (320/2، ط: دار الفکر) وإن قل رأس مال أحدهما وكثر رأس مال الآخر واشترطا الربح بينهما على السواء أو على التفاضل فإن الربح بينهما على الشرط، والوضيعة أبدا على قدر رءوس أموالهما. الشامية :(5/ 166، ط: دارالفكر) (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة. فقه البيوع545/1،ط: وإنّ زیادۃ الثمن من أجل الأجل ،وإن کان جائزا عند بدایۃ العقد، ولکن لا تجوز الزّیادۃ عند التّخلّف فی الأداء، فإنہ رباً فی معنی "أتقضی أم تربی؟"، وذالک لأنّ الأجل ،وإن کان منظورا عند تعیین الثمن فی بدایۃ العقد ،ولکن لمّا تعین الثمن ،فإنّ کلہ مقابل للمبیع، ولیس مقابلا للأجل، ولذلک لایجوز "ضع و تعجل" ۔ أمّا إذا زید فی الثّمن عند التّخلّف فی الأداء ، فھو مقابل للأجل مباشرۃً لا غیر، وھو الربا.